بیجنگ:گزشتہ روز امریکی ایوان نمائندگان کی خصوصی کمیٹی برائے چین کے چیئرمین مورینانے دعویٰ کیا کہ چین نے امریکہ کے اعلیٰ اداروں میں اپنے محققین کو شامل کیا ہے تاکہ انہیں دوہرے استعمال کی حساس ٹیکنالوجیز تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے۔ اگر اس پر توجہ نہ دی گئی تو امریکہ کو ان رجحانات کی قیمت چین کے تکنیکی عزائم کے فروغ کی صورت میں ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔
جمعرات کو چینی میڈیا کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے کہا کہ امریکہ میں چینی طالب علموں کی تعداد بین الاقوامی طالب علموں کی کل تعداد کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ بنتی ہے۔ تعلیمی تعاون سے چین اور امریکہ کے عوام کے درمیان تفہیم میں اضافہ ہوا ہے اور یہ امریکہ کی اقتصادی خوشحالی اور سائنسی اور تکنیکی ترقی کو فروغ دینے کے لئے بھی سازگار ہے، جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کا بےجا استعمال کرنا بند کرے، چینی طالب علموں کے جائز اور قانونی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے اور چینی طالب علموں کے خلاف امتیازی سلوک یا پابندیوں کے اقدامات سے باز رہے۔
Trending
- پاور ڈویژن کی درآمدی کوئلے کی خریداری میں خامیوں کی نشاندہی
- ملک میں اسمارٹ میٹرز کی تنصیب سے متعلق تفصیلات سینیٹ میں پیش
- لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو انگلینڈ پر نفسیاتی برتری کیوں حاصل ہوگی؟
- شاہد کپور کے بھائی ایشان کھٹر کا ملائیشین ماڈل سے بریک اپ، مکمل توجہ کیریئر پر مرکوز کرنے کا فیصلہ
- خنجراب پاس کے زریعے پاک چین تجارت اور برآمدات میں نمایاں اضافہ
- ایران سے گیس لینے میں کیا رکاوٹ ہے؟ وزیر پیٹرولیم نے کھل کر بتا دیا
- کولمبو ٹیسٹ: سری لنکن کرکٹ ٹیم کے جاپانی مداح نے سب کی توجہ حاصل کرلی
- گلوکارہ دعا لیپا نے شادی کو اپنی زندگی کا ’جادوئی‘ دن قرار دے دیا
- کم خطرے والے سیلز ٹیکس درخواست گزاروں کی رجسٹریشن 3 ورکنگ دنوں میں کرنے کی ہدایت
- پاکستان کی عالمی مارکیٹ سے قرض لینے کی تیاری؛ وزیر خزانہ نے منصوبہ بتادیا