بیجنگ: امریکہ نے امریکہ کو برآمد کی جانے والی چینی مصنوعات پر 34 فیصد کا نام نہاد “ریسیپروکل ٹیرف” عائد کرنے کے ساتھ ساتھ مزید 50 فیصد کا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے جواب میں چین کی ریاستی کونسل کے کسٹم ٹیرف کمیشن نے 9 تاریخ کو اعلان کیا کہ 10 اپریل کو دن بارہ بجکر ایک منٹ سے امریکا میں پیدا ہونے والی تمام درآمدی اشیاء پر اضافی ٹیرف کی شرح 34فیصد سے بڑھا کر 84فیصد تک کردی جائے گی۔اسی دن چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے اعلان کیا کہ چین نے امریکا کی تازہ ٹیرف پالیسی کے خلاف ڈبلیو ٹی او تنازعات کے تصفیے کے طریقہ کار کے تحت امریکہ پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے نام نہاد “ریسیپروکل محصولات” ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں، اور اس بار چینی مصنوعات پر اضافی 50 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں، جو امریکی یکطرفہ غنڈہ گردی کو ظاہر کرتے ہیں. چین اپنے جائز حقوق اور مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرے گا۔
Trending
- رونالڈو کے النصر چھوڑنے کی قیاس آرائیاں، جنوری میں کلب سے علیحدگی کا امکان
- ٹام کروز ماضی میں جینا پسند نہیں کرتے، اپنے مستقبل کے عزائم بتادیئے
- بحری رابطہ کاری؛ کراچی پورٹ کا عالمی اسکور تاریخ کی بلند ترین سطح پر
- پاکستان مسلم لیگ (ق) ہیومن رائٹس ونگ کا صوبائی انتظامی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مؤقف
- پاکستان کا چین سے 30 ارب یوآن کی سوئپ سہولت میں توسیع کی درخواست کا فیصلہ
- این سی سی آئی اے کے سوال نامے پر محمد رضوان کا جواب سامنے آگیا
- دیشا سالیان کیس: دو اہم سیاسی رہنماؤں کو 500 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس
- سونے کے نرخ میں کئی ہزار روپے کی کمی
- کراچی؛ واٹر پارک کے سوئمنگ پول میں نہاتے ہوئے ڈوب کر طالبہ جاں بحق
- لیونل میسی نے ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا