حالیہ دنوں امریکی حکومت کی جارحانہ ٹیرف پالیسی نے جرمن میڈیا اور سیاسی و کاروباری حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے، جرمن اخبار شاؤ” نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف کو ایک قسم کے “مذاکراتی آلے” کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جو نہ صرف امریکی معیشت کو کساد بازاری کے دہانے پر لے گئی ہے بلکہ دنیا میں امریکہ کے لیے “بھروسے کے بحران” کا باعث بھی بنی ہے۔ جرمن اخبار “ہینڈلز بلٹ” نے اس سے بھی آگے بڑھ کر کہا کہ “تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی کا انتخاب ایک مضحکہ خیز عمل ہے”۔
جرمن ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی ٹیرف پالیسی روایتی ٹرانس اٹلانٹک پارٹنرشپ کو سخت آزمائش میں ڈال رہی ہے اور خود امریکا کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے لیے خوشحالی اور استحکام کا صحیح راستہ صرف مکالمہ ، تعاون پر قائم رہنا اور آزاد تجارت کے اصولوں کا دفاع کرنا ہے۔
Trending
- ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں آج بھی اضافہ کردیا گیا
- 27سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران ہلاک
- قطر سے ایل این جی کارگو پورٹ قاسم پہنچ گیا
- پیٹرولیم لیوی پر 60 روپے فی لیٹر کمی کی جائے: پاکستان بزنس فورم
- مشرق وسطیٰ میں تشویش کی شدت، پی ایس ایکس 100 انڈیکس پونے دو فیصد گرگیا
- پاکستان کے معدنی شعبہ کی ترقی میں اہم پیش رفت
- برطانیہ میں فضائی ٹریفک سسٹم کی خرابی،2 روز میں 8 ہزار سے زائد پروازیں متاثر
- سینیٹ کمیٹی خزانہ نے ایف بی آر سے گزشتہ 10 سال کے ریفنڈز کی تفصیلات طلب کرلیں
- 23ویں ہیلتھ ایشیا 2026:صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری و ترقی کا نیا باب
- وسیم اکرم نے بھی عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار کر دیا