حالیہ دنوں امریکی حکومت کی جارحانہ ٹیرف پالیسی نے جرمن میڈیا اور سیاسی و کاروباری حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے، جرمن اخبار شاؤ” نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف کو ایک قسم کے "مذاکراتی آلے” کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جو نہ صرف امریکی معیشت کو کساد بازاری کے دہانے پر لے گئی ہے بلکہ دنیا میں امریکہ کے لیے "بھروسے کے بحران” کا باعث بھی بنی ہے۔ جرمن اخبار "ہینڈلز بلٹ” نے اس سے بھی آگے بڑھ کر کہا کہ "تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسی کا انتخاب ایک مضحکہ خیز عمل ہے”۔
جرمن ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی ٹیرف پالیسی روایتی ٹرانس اٹلانٹک پارٹنرشپ کو سخت آزمائش میں ڈال رہی ہے اور خود امریکا کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے لیے خوشحالی اور استحکام کا صحیح راستہ صرف مکالمہ ، تعاون پر قائم رہنا اور آزاد تجارت کے اصولوں کا دفاع کرنا ہے۔
Trending
- چائنا میکسنگ: مغربی تصورات کو چیلنج کرتی ایک نئی تہذیبی لہر
- چین کی غیر ملکی تجارت کا تازہ ترین ریکارڈ ‘توقعات سے بڑھ کرہے، چینی میڈیا
- چینی صدر کا دورہ شمالی کوریا باہمی تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے، چینی عہدیدار
- میڈیا کی اصلاحات میں مصنوعی ذہانت کا کردار تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے، چینی میڈیا
- چین، پانچویں گلوبل میڈیا انوویشن فورم کا چھونگ چھنگ میں انعقاد
- چین کی کولڈ چین لاجسٹکس مارکیٹ کا حجم رواں سال 585 بلین یوان سے تجاوز کرنے کا امکان
- پرامن وحدت کے بعد، "تائیوان کی علیحدگی”سے پیدا ہونے والے جنگی خطرات جڑ سے ختم ہو جائیں گے، چینی ریاستی کونسل
- لاہور ایئرپورٹ پر ملکی و غیر ملکی 15 پروازیں گھنٹوں تاخیر کا شکار، مسافر پریشان
- ننگے پاؤں ٹریننگ اور خستہ حال بس، فیفا ورلڈ کپ میں شریک سب سے چھوٹا ملک کورا کائو توجہ کا مرکز
- بھارتی یوٹیوبر ارمان ملک کا بیوی کے لباس پر متنازع بیان، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل