بیجنگ : چین اور امریکہ کے مابین جنیوا میں اعلی سطحی اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے مشترکہ بیان کے بعد بین الاقوامی رائے عامہ نے اس کا خیر مقدم کیا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کی ڈائریکٹر جنرل ایویرا نے کہا کہ چین امریکہ اقتصادی بات چیت کی پیشرفت نہ صرف چین اور امریکہ بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لئے بھی بہت اہم ہے، اور یہ تمام فریقین کی توقعات کے مطابق بھی ہے۔یہ بات چیت امریکہ کی درخواست پر منعقد ہوئی جو اپریل میں امریکہ کی جانب سے چین پر بھاری محصولات عائد کرنے اور چین کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد دونوں اطراف کی پہلی براہ راست ملاقات تھی۔ اس بات چیت میں "عملی پیشرفت” حاصل کی گئی، اور اس نے چین اور امریکہ کی معیشت کے قریبی تعلق کے بارے میں فریقین کی آگاہی کو ظاہر کیا اور تعاون بڑھانے کی بنیاد فراہم کی۔اپریل کے بعد سے، امریکہ نے محصولات کے اقدامات کو مسلسل بڑھایا، اور چین نے اس کا مضبوطی سے جواب دیا۔ اس عمل کے دوران، امریکہ کی جانب سے عائد کردہ بھاری ٹیرف سے خود امریکہ کے نقصانات مزید نمایاں نظر آ رہے ہیں ۔ امریکہ کے اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹیرف پالیسی میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی تو امریکہ کی معیشت میں کمی کے امکانات 60 فیصد سے زیادہ ہیں، اور اس سال مہنگائی کی شرح 3.5سے 4 فیصد تک بڑھ جائے گی۔اس کے مقابلے میں، چین کی معیشت کی طاقت، لچک اور مسلسل بڑھتی ہوئی کھلی پالیسی نے چین کی اسٹریٹجک مضبوطی اور خطرات کا سامنا کرنے کی قابلیت کو بڑھایا ہے۔ اس سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی معیشت میں سال بہ سال 5.4 فیصدکا اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے متعدد اداروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ چین کی معیشت اس سال اپنی مضبوط ترقی برقرار رکھے گی۔چین اور امریکہ کی جنیوا میں اقتصادی بات چیت کے نتائج قابل تحسین ہیں،تاہم آگے بڑھنے کے لئے دونوں فریقوں کی مسلسل کوششیں ضروری ہیں۔ خاص طور پر تجارتی جنگ شروع کرنے والے فریق امریکہ کو نیک نیتی اور خلوص عمل دکھانا چاہیے، اور اپنے موقف میں بار ہا تبدیلی کو بند کرنا چاہیے۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ