امریکی فیڈرل ریزرو کی تازہ ترین فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف او ایم سی) مانیٹری پالیسی اجلاس کے منٹس سے پتہ چلتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے وفاقی فنڈز کی شرح کے لئے ہدف کی حد کو 4.25فیصد اور 4.50فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسلسل چوتھی بار ہے کہ فیڈرل ریزرو کی مانیٹری پالیسی میٹنگ میں شرح سود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے 18 تاریخ کو کہا کہ موجودہ امریکی حکومت کی پالیسیوں کا معیشت پر اثر ابھی تک غیر یقینی ہے۔ امریکی حکومت کی محصولات کی پالیسی امریکی افراط زر میں اضافہ کر سکتی ہے اور امریکی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ محصولات کا اثر دیرپا ہونے کا امکان ہے ، اور اس کے اثرات ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
Trending
- حکومت کی ترجیح ریونیو اکٹھا کرنا نہیں، بحری تجارتی سہولیات فراہم کرنا ہے، وزیرِ بحری امور
- ’’کراچی میں رہنا ایسا ہے جیسے پیرس میں رہنا‘‘، شرمیلا فاروقی
- عالمی سرفہرست ای کامرس کمپنی علی بابا کی پاکستان میں سرمایہ کاری، لائسنس جاری
- خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین پر غیرملکی شہریوں سے شادی پر پابندی عائد کردی
- سونے کی قیمتوں میں 2 روزہ وقفے کے بعد اضافہ، چاندی بھی مزید مہنگی
- پشاور؛ سی ٹی ڈی کی کارروائی، فائرنگ کے تبادلے میں مطلوب دو دہشتگرد ہلاک
- کراچی سے ایک دو بندے اٹھانے کی دیر ہے پتہ چل جائے گا 100 ارب باہر کیسے منتقل ہوئے، وزیر داخلہ
- امریکا،ایران کشیدگی خاتمے کیلیے پاکستانی ثالثی کی دنیا معترف
- متحدہ عرب امارات کو رواں ماہ بروقت قرض کی ادائیگی کیلئے انتظامات مکمل
- پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصری حکام کا اجلاس، نئے 4 فریقی اتحاد کے ڈھانچے کی حتمی تجاویز تیار