ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو جارح قرار دے اور جنگی تلافی سمیت ان کا احتساب کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ 13 جون کے بعد سے اسرائیل نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا ہے، جان بوجھ کر متعدد رہائشی علاقوں اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ہیں جو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں قم، اراک، نطنز اور اصفہان میں جوہری تنصیبات کو بھی اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر، جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور آئی اے ای اے کی متعلقہ قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
خط میں کونسل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو تسلیم کرے اور اسرائیل اور امریکہ کو جارح قرار دے، جنگی تلافی سمیت ان کا احتساب کرے، اور "جارحیت کا منصوبہ بنانے والے فوجی اور سیاسی رہنماؤں کی ذاتی مجرمانہ ذمہ داری قبول کرے”۔
Trending
- وفاقی حکومت کی معاشی شرح نمو، زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کا انکشاف
- انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس اور بولر گَس ایٹکنسن کیخلاف بڑا فیصلہ!
- National Economic Council approves budget 2026-2027
- پاکستان آرمی نے 31 ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپین شپ جیت کر اپنے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا
- بجٹ میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کیلئے ٹیکس ریلیف دیے جانے کا امکان
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا
- سفارتی امور پر چینی صدر کے منتخب کلام” کی جلد اوّل اور جلد دوم کی اشاعت
- کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور بھارتی میڈیا کا مذموم عزائم کیلیے گٹھ جوڑ بے نقاب