بیجنگ : کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے تھیان جن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔بدھ کے روز وانگ ای نے کہا کہ ایس سی او کے قیام کے بعد سے 24 سالوں میں، رکن ممالک کے رہنماؤں کی تزویراتی رہنمائی میں، ایس سی او نے ایک مستحکم اور مثبت ترقی کے رجحان کو برقرار رکھا ہے، تعاون کے شعبوں میں مسلسل توسیع کی ہے، اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مسلسل بڑھایا ہے اور اس کی اسٹریٹجک قدر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس سی او علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے اور مشترکہ ترقی کے حصول میں رکن ممالک کے لیے قابل اعتماد تعاون کا ایک ذریعہ بن گئی ہے۔وانگ ای نے کہا کہ موجودہ دور میں صدیوں پر محیط تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں اور ہنگامہ خیزی اور تبدیلی آپس میں جڑی ہوئی ہیں ۔ دنیا زیادہ کثیر قطبی ہوتی جا رہی ہے ، اقتصادی عالمگیریت گہری ہوتی جا رہی ہے اور گلوبل ساؤتھ نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بالادستی اور طاقت کے غلط استعمال، تحفظ پسندی کی لہریں اور ایک کے بعد ایک علاقائی تنازعہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئی صورتحال کے تحت رکن ممالک کو تاریخ اور مستقبل کے حوالے سے ذمہ دارانہ رویہ کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے مزید اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔وانگ ای نے شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقبل کی ترقی کے لیے پانچ تجاویز پیش کیں: پہلی یہ کہ ،ابتدائی مقاصد کو نہ بھولیں اور “شنگھائی اسپرٹ” کو فروغ دیں۔ دوسری یہ کہ سلامتی کے معاملات میں مشترکہ ذمہ داری اٹھائیں اور سلامتی کی بنیاد کو مضبوط بنائیں۔ تیسرا یہ کہ باہمی فائدے اور جیت جیت پر مبنی حکمت عملی اپناتے ہوئے ترقی کے انجن کو فعال کریں۔ چوتھی یہ کہ ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کریں اور ایک خوبصورت گھر کی تعمیر میں مشترکہ کردار ادا کریں اور پانچواں یہ کہ درست راستے پر قائم رہیں اور انصاف اور مساوات کا دفاع کریں۔شرکاء نے چین کی صدارت میں بہترین خدمات اور مثبت نتائج کی بہت پزیرائی کی اور تھیان جن سمٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے چین کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل یرمیک بایف نے اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر صحافیوں سے بات چیت کی ۔ وانگ ای نے اعلان کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تھیان جن سمٹ 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوگی جس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما اور 10 بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان اجلاس اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں میں شرکت کریں گے۔
Trending
- امریکا ایران کشیدگی، تیل کی قیمتیں 4 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر
- سابق امیرِ قطر کے انتقال پر تعزیت؛ وزیراعظم شہباز شریف دوحہ سے وطن واپس پہنچ گئے
- Kashmir Martyrs’ Day: President, Prime Minister Pay Tribute to the 22 Martyrs of 1931
- آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ مونال ریسٹورنٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
- منشیات ڈیلر انمول پنکی کے ساتھیوں کو پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ جیل کو شوکاز نوٹس
- سابق عالمی چیمپئن عامر خان کی پاکستان آمد، کراچی سمیت بڑے شہروں میں باکسنگ اکیڈمیز قائم کرنے کا عزم
- غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کا کیس؛’باس‘ کی بازیابی کیس میں پولیس رپورٹ طلب
- فیفا ورلڈ کپ: ٹیموں کی تعداد 48 سے بڑھا کر 64 کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے، جیانی انفانٹینو
- ایل پی جی انڈسٹری کے نمائندوں نے مسائل حل نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کی دھمکی دیدی
- نئی نجی ایئرلائن ساؤتھ ایئر 16 جولائی سے فلائٹ آپریشن شروع کرے گی