برازیل کے صدرلوئز انا سیو لولا ڈسیلوا نے برازیل کی سپریم کورٹ کے ججوں سے یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بار پھر امریکی حکومت کی جانب سے من مانی اور بے بنیاد اقدامات کا سامنا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت ناقابل قبول ہے اور یہ ریاستوں کے مابین خودمختاری کے احترام کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی قسم کی دھمکی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کوبرقرار رکھنے کے لئے ریاستی اداروں کے اہم فرائض کو کمزور نہیں کر سکتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل برازیل کی پولیس نے برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے سرچ وارنٹ جاری کیے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردیں۔ بعد ازاں اسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس اور ان کے قریبی اہل خانہ اورسپریم کورٹ کے اتحادیوں کے امریکی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ روبیو کا کہنا تھا کہ ڈی موراس نے بولسونارو پر "سیاسی جبر” کیا ہے۔
Trending
- مؤثر عملدرآمد کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، آئی ایم ایف
- لیاری ندی کو ٹی ایم سی کے دائرہ اختیار میں شامل کرنے کی منظوری
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستان کا ابھرتا سفارتی کردار
- فتح جنگ میں بڑا انتظامی ایکشن: بدعنوانی پر اہلکار فوری معطل
- فی یونٹ 27 پیسے اضافے کا امکان
- آزاد کشمیر؛ حساس تنصیبات کی تصاویر، ویڈیوز بنانے والا را کا مبینہ ایجنٹ گرفتار
- سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر پاکستان کو موصول، زرمبادلہ ذخائر مستحکم
- مسلم لیگ گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی: چوہدری شجاعت حسین
- راولپنڈی؛ مدرسے کے معلم کی 13 سالہ طالبعلم سے مبینہ زیادتی ، مقدمہ درج
- وزیرِ خزانہ کی موڈیز کے نمائندگان سے ملاقات، رابطے و تعاون جاری رکھنے کا عزم