برازیل کے صدرلوئز انا سیو لولا ڈسیلوا نے برازیل کی سپریم کورٹ کے ججوں سے یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک بار پھر امریکی حکومت کی جانب سے من مانی اور بے بنیاد اقدامات کا سامنا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک ملک کی طرف سے دوسرے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت ناقابل قبول ہے اور یہ ریاستوں کے مابین خودمختاری کے احترام کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی شخص کی طرف سے کسی بھی قسم کی دھمکی جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے دفاع کوبرقرار رکھنے کے لئے ریاستی اداروں کے اہم فرائض کو کمزور نہیں کر سکتی ہے۔
اس سے ایک روز قبل برازیل کی پولیس نے برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے سرچ وارنٹ جاری کیے اور ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کردیں۔ بعد ازاں اسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر ڈی موراس اور ان کے قریبی اہل خانہ اورسپریم کورٹ کے اتحادیوں کے امریکی ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ روبیو کا کہنا تھا کہ ڈی موراس نے بولسونارو پر “سیاسی جبر” کیا ہے۔
Trending
- پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، پی ڈی ایم اے
- دیر بالا: طوفانی بارشوں سے تباہی، مرکزی شاہراہ بند، پل بہہ گیا، سیاح اور مسافر پھنس گئے
- کراچی میں یوم شہدائے سندھ پولیس ریس، ہزاروں افراد کی شرکت
- دریائے پنجکوڑہ میں لڑکی کو بچانے کی کوشش، ڈرائیور دریا میں ڈوب گیا، سرچ آپریشن جاری
- پی ایچ ایف نے جنوبی کوریا ہاکی فیڈریشن کی جانب سے دعوت قبول کر لی
- رام گوپال ورما اور ارمیلا نے خفیہ شادی کی تھی؟ سینئر بھارتی صحافی کا حیران کن دعویٰ
- آزاد کشمیر الیکشن، ایل اے 31 اور 40 میں پی پی کی شکایات بے بنیاد ہیں، ن لیگ کا الیکشن کمیشن کو خط
- دوسرا ٹیسٹ: ویسٹ انڈیز کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- ’عینک والا جن‘ کے اینیمیٹڈ ورژن پر تنازع، رائٹر حفیظ طاہر کا سخت ردعمل
- ویسٹ انڈیز کیخلاف دوسرے ٹیسٹ میں عبداللہ شفیق اور سعود شکیل کی واپسی متوقع