حال ہی میں امریکہ نے فلپائن کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ، جس کے مطابق فلپائن اپنی مارکیٹ کو امریکہ کے لئے کھول دےگا جبکہ امریکہ کو فلپائن کی برآمدات پر عائد محصولات کو 20فیصد سے صرف 19فیصد تک کم کیا گیا۔ اس حوالے سے فلپائن کے ماہر ولی اونگ نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی فلپائن کے ساتھ انتہائی غیر منصفانہ ہے اور اس سے فلپائن کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے فلپائن کے ساتھ جو کچھ کیا ،وہ بہت غیر منصفانہ ہے۔ ٹیرف میں ایک فیصد کمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ان کا ماننا ہے کہ فلپائن کو امریکہ کے لئے کھولنا فلپائن کی مقامی صنعت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور 19فیصد ٹیرف نے فلپائن کے برآمد کنندگان پر مسابقتی دباؤ میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن گزشتہ 100 سال سے امریکا کا روایتی اتحادی رہا ہے اور اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیئے۔
Trending
- سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہزار روپے کا اضافہ
- سعودی وزیرِ دفاع کی امریکی صدر ٹرمپ سے ہنگامی ملاقات، ولی عہد کا خصوصی پیغام پہنچایا
- پاکستانی پیسرز نے 31 سال بعد منفرد کارنامہ انجام دے دیا
- اے آئی کی ترقی کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا، چینی میڈیا
- ثقافتی یلغار کے نرغے میں ایمان، ماحولیات اور آبادیاتی توازن
- پاکستان کی عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں رسائی
- کیا آپ بھی بھولنے کی عادت کا شکار ہیں؟ یہ غذائیں یادداشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں
- مشرق وسطیٰ میں نیا محاذ کھل گیا، تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد سعودی عرب کی عراق پر جوابی کارروائی
- شان مسعود کی انگلی فریکچر، بابر اعظم نے انجری کی تصدیق کردی
- چین کا جاپان سے چین میں ترک کردہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل تیز کرنے کا مطالبہ