حال ہی میں امریکہ نے فلپائن کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا ، جس کے مطابق فلپائن اپنی مارکیٹ کو امریکہ کے لئے کھول دےگا جبکہ امریکہ کو فلپائن کی برآمدات پر عائد محصولات کو 20فیصد سے صرف 19فیصد تک کم کیا گیا۔ اس حوالے سے فلپائن کے ماہر ولی اونگ نے چائنا میڈیا گروپ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی فلپائن کے ساتھ انتہائی غیر منصفانہ ہے اور اس سے فلپائن کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے فلپائن کے ساتھ جو کچھ کیا ،وہ بہت غیر منصفانہ ہے۔ ٹیرف میں ایک فیصد کمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ان کا ماننا ہے کہ فلپائن کو امریکہ کے لئے کھولنا فلپائن کی مقامی صنعت کے لئے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور 19فیصد ٹیرف نے فلپائن کے برآمد کنندگان پر مسابقتی دباؤ میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن گزشتہ 100 سال سے امریکا کا روایتی اتحادی رہا ہے اور اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیئے۔
Trending
- شنگھائی تعاون تنظیم نے علاقائی تعاون کا نیا ماڈل پیش کیا ہے ، چینی وزارتِ خارجہ
- چین کا امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر اتفاقِ رائے کا خیرمقدم
- چینی صدر کے اہم مضمون "تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور افرادی صلاحیتوں کی مربوط ترقی” کی اشاعت
- چینی صدر کی قیادت میں چین نے تقریباً 10 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا، چینی میڈیا
- لاہور ممتاز عالم دین مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی انتقال فرما گئے
- نوح دستگیر بٹ نے ازبکستان میں ’جلال الدین سورڈ‘ مقابلہ جیت لیا
- رشمیکا مندانا کو بے قابو ہجوم سے بچانے کےلیے کریتی سینن ڈھال بن گئیں، ویڈیو وائرل
- پاکستان جیسا منافع دنیا کی کسی اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں نہیں ہے، وزیر خزانہ
- امریکا-ایران معاہدہ شہباز شریف اور عاصم منیر کی کوششوں سے ممکن ہوا، نیویارک ٹائمز
- آسٹریلیاکا ریکارڈ ٹوٹ گیا،سعودی عرب کی دنیا کی سب سے لمبی سیدھی سڑک