سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق جنوبی کوریائی صدر یون سوک یول کی اہلیہ کم کون ہی کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے فوری بعد انہیں سیول سدرن ڈیٹینشن سینٹر میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا کی آئینی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر اور ان کی اہلیہ دونوں کا بیک وقت زیرحراست ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
سیول کورٹ کے ترجمان کے مطابق، کم کون ہی کے بارے میں “ثبوت ضائع کرنے کا امکان” پایا گیا، جس کی بنیاد پر ان کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔
چھ تاریخ کو،جرمن آٹوموبائل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے معاملے اور سیاسی بروکرز کے ذریعے انتخابی مداخلت کے اسکینڈلز سمیت متعدد الزامات کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر ٹیم نے کم کون ہی کو طلب کیا تھا، لیکن انہوں نے تمام الزامات کی بنیادی طور پر تردید کی تھی۔
گزشتہ سال تین دسمبر کو، اس وقت کے صدر یون سوک یول نے ہنگامی مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ چار اپریل کو آئینی عدالت نے یون کے خلاف مواخذے کی قرارداد منظور کی تھی، جس کے بعد انہیں صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ دس جولائی کو سیول کورٹ نے یون سوک یول کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے بعد ہنگامی مارشل لاء کیس کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ تاحال ، یون سوک یول سیول ڈیٹینشن سینٹر میں زیرحراست ہیں۔
Trending
- اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
- پیپلز پارٹی کشمیر کے الیکشن میں دھاندلی کررہی ہے، عظمیٰ بخاری
- عالمی جونیئر ٹیم اسکواش چیمپئن شپ: پاکستان نے پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنالی
- بھارتی وزیرِ تعلیم کے استعفے پر بالی ووڈ ستارے بھی بول پڑے، طلبہ احتجاج کو تاریخی کامیابی قرار دے دیا
- ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران ریکارڈ اضافہ
- ڈی آئی خان؛ ضلع ہنگو کے جنگلات سے پولیس کانسٹیبل کی لاش برآمد
- ورلڈکپ پر تنقید کرنے والوں کو فیفا صدر کا سخت جواب
- پاکستانی شوبز کے وہ ستارے جو ’نیپو کڈز‘ ہونے کے باوجود اپنی شناخت بنانے میں کامیاب رہے
- پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
- قائداعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک، درخواستگزار کو نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت