سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق جنوبی کوریائی صدر یون سوک یول کی اہلیہ کم کون ہی کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے فوری بعد انہیں سیول سدرن ڈیٹینشن سینٹر میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا کی آئینی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر اور ان کی اہلیہ دونوں کا بیک وقت زیرحراست ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
سیول کورٹ کے ترجمان کے مطابق، کم کون ہی کے بارے میں “ثبوت ضائع کرنے کا امکان” پایا گیا، جس کی بنیاد پر ان کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔
چھ تاریخ کو،جرمن آٹوموبائل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے معاملے اور سیاسی بروکرز کے ذریعے انتخابی مداخلت کے اسکینڈلز سمیت متعدد الزامات کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر ٹیم نے کم کون ہی کو طلب کیا تھا، لیکن انہوں نے تمام الزامات کی بنیادی طور پر تردید کی تھی۔
گزشتہ سال تین دسمبر کو، اس وقت کے صدر یون سوک یول نے ہنگامی مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ چار اپریل کو آئینی عدالت نے یون کے خلاف مواخذے کی قرارداد منظور کی تھی، جس کے بعد انہیں صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ دس جولائی کو سیول کورٹ نے یون سوک یول کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے بعد ہنگامی مارشل لاء کیس کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ تاحال ، یون سوک یول سیول ڈیٹینشن سینٹر میں زیرحراست ہیں۔
Trending
- پیٹرول 4 اور ڈیزل 6 روپے مہنگا ہونے کا امکان، ذرائع اوگرا
- پرواز میں خاتون کی نازیبا حرکت، طیارے سے اترتے ہی گرفتار
- پاکستان کا سعودی عرب کیساتھ تجارتی خسارہ 18.37 فیصد کم ہوگیا
- ویمنز ایشیا کپ: بھارتی ٹیم کو محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے کس نے منع کیا؟ کوچ کا انکشاف
- رضااللہ ہیرو، زیرو پھر ہیرو
- مسلم لیگ (ق) ہیومن رائٹس ونگ کا اہم اجلاس، تنظیم سازی اور عوامی شکایات کے حل پر غور
- ایلیگزینڈر زیوریو نے پہلی مرتبہ یو ایس اوپن کا ٹائٹل جیت لیا
- گزشتہ سال نافذ ہونے والا نیا وائیڈ بال قانون کیا ہے؟ ثناء میر نے وضاحت کردی
- مریم نواز کا بیٹی کے نکاح پر شاہانہ لُک توجہ کا مرکز، جانیے لباس کی خاص تفصیلات
- ملک میں آج بھی سونا سستا ہو گیا