سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے سابق جنوبی کوریائی صدر یون سوک یول کی اہلیہ کم کون ہی کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے فوری بعد انہیں سیول سدرن ڈیٹینشن سینٹر میں حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی کوریا کی آئینی تاریخ میں پہلی بار سابق صدر اور ان کی اہلیہ دونوں کا بیک وقت زیرحراست ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
سیول کورٹ کے ترجمان کے مطابق، کم کون ہی کے بارے میں "ثبوت ضائع کرنے کا امکان” پایا گیا، جس کی بنیاد پر ان کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا گیا۔
چھ تاریخ کو،جرمن آٹوموبائل کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے معاملے اور سیاسی بروکرز کے ذریعے انتخابی مداخلت کے اسکینڈلز سمیت متعدد الزامات کی تحقیقات کے لیے خصوصی پراسیکیوٹر ٹیم نے کم کون ہی کو طلب کیا تھا، لیکن انہوں نے تمام الزامات کی بنیادی طور پر تردید کی تھی۔
گزشتہ سال تین دسمبر کو، اس وقت کے صدر یون سوک یول نے ہنگامی مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ چار اپریل کو آئینی عدالت نے یون کے خلاف مواخذے کی قرارداد منظور کی تھی، جس کے بعد انہیں صدر کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ دس جولائی کو سیول کورٹ نے یون سوک یول کا گرفتاری وارنٹ جاری کیا، جس کے بعد ہنگامی مارشل لاء کیس کی تفتیش کرنے والی خصوصی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ تاحال ، یون سوک یول سیول ڈیٹینشن سینٹر میں زیرحراست ہیں۔
Trending
- بنگلادیش کے اہم کھلاڑی کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
- Krishna Abhishek and Govinda’s wife Sunita Ahuja reconcile after 14 years
- سرکاری ذخائر میں 1 ارب 32 کروڑ ڈالرز سے زائد کی بڑی کمی
- پی ایس ایل: بابر کی فارم میں واپسی پر سلمان نصیر نے نظر اتار دی، ویڈیو وائرل
- وزیر اطلاعات پنجاب کی فضا علی کی نازیبا حرکت پر شدید تنقید
- بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف مشن مئی میں پاکستان آئے گا
- پی ایس ایل: آج بریسٹ کینسر کی آگاہی کیلیے پنک ڈے منایا جائے گا
- بھارت میں مہنگی ترین فلم ریلیز سے قبل ہی لیک، 6 ملزمان گرفتار
- کیریبین پریمیئر لیگ کے میچز آٹھ ممالک میں کھیلے جائیں گے
- اے آئی کے ذریعے آنجہانی ٹاپ گن اسٹار کی پردے پر واپسی، ہالی ووڈ میں نئی بحث چھڑ گئی