بیجنگ :چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں جرمن وزیر خارجہ کے دورہ جاپان کے دوران آبنائے تائیوان، بحیرہ مشرقی چین اور بحیرہ جنوبی چین کے بارے میں دیے گئے بیان کے حوالےسے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کا معاملہ چین کا اندرونی معاملہ ہے اور ایک چین کا اصول چین کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کے قیام اور فروغ کی سیاسی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے تائیوان میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہمیں واضح طور پر ایک چین کے اصول پر عمل کرنا ہوگا اور “تائیوان کی علیحدگی ” کی کوششوں کی مخالفت کرنا ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ اس وقت بحیرہ مشرقی چین اور بحیرہ جنوبی چین کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم ہے اور ہم متعلقہ فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ تنازعات کو ہوا دینے اور کشیدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل اور امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے علاقائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کا احترام کریں۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ