News Views Events

کاظم خان شیدا، سبکِ ہندی اور ڈاکٹر حنیف خلیل

0

تحریر: سمیع الرحمان

پچھلے دنوں ایک تقریب کے سلسلے میں پشتو زبان کے نامور محقق ، نقاد، شاعر اور مترجم ڈاکٹر حنیف خلیل سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ پشتو سے شدبُد رکھنے والے حضرات کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام کچھ نیا نہیں، نہ ہی پشتو شعر و ادب اور پشتون تاریخ و تمدّن سے شغف و دلچسپی رکھنے والوں کے لیے، کہ اس سلسلے میں ان کی گراں قدر خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور ان موضوعات پر نہ صرف اُن کی درجنوں کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئی ہیں ، بلکہ سینکڑوں مقالے بھی ۔

ایک چیز جو ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کو پشتو کے دوسرے صاحبِ قلم حضرات سے ممیّز کرتی ہے وہ اُن کا فنِ خطابت ہے ۔ عموماً ایک اچھا مقرّر اچھا لکھاری نہیں ہوتا یا پھر اگر ایک اچھا لکھاری ہے تو اچھا مقرّر ثابت نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب میں یہ دونوں خوبیاں بدرجۂ اتم پائی جاتی ہیں ۔ جب وہ کسی موضوع پر قلم اُٹھاتے ہیں تو ہر پہلو سے نہایت دلچسپ اور دِل آویز پیرائے میں اپنا مطمحِ نظر بیان کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ادبی تقریبات میں ان کے خطبات سنیں یا اُن کے آن لائن پوڈ کاسٹس دیکھیں تو سنتے اور دیکھتے ہی چلے جائیں ۔ نہ آپ کو نیند آئے اور نہ آپ جمائیاں لیں۔ بلکہ اگر دوسرے مقرّرین سے آپ پر یہ کیفیت طاری بھی ہو تو اُن کے آتے ہی آپ ہشاش بشاش ہو جائیں اور نہایت غور و انہماک سے اُن کی جانب متوجہ ہوں۔
یوں، ڈاکٹر صاحب نہ صرف میدانِ تحریر بلکہ تقریر کے بھی یکساں شہسوار ہیں اور دورانِ تقریر اُن کے حاوی کردہ سحر اور سکتے سے آپ بآسانی باہر نہیں نکل سکتے ۔ اور یہ کمال آپ کو تب نصیب ہوتا ہے جب نہ صرف آپ کو اپنے موضوع پر کامل عبور حاصل ہو بلکہ اس کی پیچیدگیوں، گتھلیوں اور باریکیوں سے بھی آپ پوری طرح آشنا ہوں۔
ایک تیسری چیز جو اُن کے مزاج کا خاصہ ہے وہ ہے اُن کی کسرِ نفسی اور منکسرالمزاجی ۔ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ چھوٹے بڑوں سب کا لحاظ کرتے ہیں۔ ورنہ تو دو چار الفاظ آپ نے لکھے نہیں اور آپ کے تیور آسمان سے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ یا پھر بقول شیدا (ترجمہ) ،’’تِرے نین ہم پہ کیا التفاتِ نگاہ کریں ، تِری پلکیں ہی غرور سے جب آسمان کو گھوریں‘‘۔ ڈاکٹر صاحب اس چیز سے مبّرا ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے عقیدت مندوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
بہرحال یہ تو ذیلی باتیں ہیں جو اُن سے مخصوص ہیں۔ اُن کی اصل جولان گاہ درحقیقت وہ شرحیں ہیں جو انہوں نے اٹھارویں صدّی کے عظیم المرتبت پشتون شاعر کاظم خان شیدا کے نہایت دقیق اور مشکل کلام کی کی ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کی آخری کتاب حال ہی میں پشاور سے شائع ہوئی ہے ۔ بڑے سائز میں ۵۲۸ صفحات پر مبنی یہ شرح دراصل جلد دوم ہے ، جلد اوّل کئی سال قبل شائع ہو چکا ہے،اور اِ س وقت نایاب ہے ۔ میری خوش قسمتی کہ اس کا ایک نسخہ مجھے ڈاکٹر صاحب ہی کے ہاتھوں وصول ہواہے ۔ جلد دوم کا بھی یہی حال رہا، یعنی وہ بھی بنفسِ نفیس اُن سے ہی وصول کیا۔گرچہ اس بار میرا ارادہ دوبارہ مفت خورہ بننے کا نہیں تھا اور اس کو کتب فروش سے دام دے کر مول لینے کا تھا ۔ لیکن کیا جائے جب صاحبِ تصنیف خود ہی کتاب تحفہ کرنے پر مُصر ہوں اور سونے پہ سہاگہ ، نسخہ دستخط شدہ بھی ہو۔ کوئی بیوقوف ہی ہو گا جو اس جیسے گراں قدرسوغات کو ٹھکرائے۔
ظاہر ہے کہ یہ ایک شرح ہے اور شرح اُن کلاموں کی ہوتی ہے جو عام فہم نہ ہو ، مشکل ہو، دقیق ہو، تشریح طلب ہو اور فنی باریکیوں سے بھر پور ہو۔ شاعری کی یہ نوع سبکِ ہندی کی ذیل میں آتی ہے، جن کے اردو میں اگر غالب ایک نمائندہ شاعر ہیں تو پشتو زبان میں یہ سہرا کاظم خان شیداکے سر ہے۔ غالب کی شاعری بِن تشریح بھلا کس کی سمجھ میں آئے۔ اس کو پڑھنے کے لیے، بقول ہمارے سکول کے زمانے کے ایک استاد ، آپ کو باقاعدہ وضو کرنا ہوتا ہے، اور پورے اہتمام و تیاری سے اس کے لیے بیٹھنا پڑتا ہے۔اہتمام اِن معنوں میں نہیں کہ واقعی آپ وضو کریں اور مصلّے پہ بیٹھ جائیں ۔لیکن یہ کہ آپ زبان و بیان کو سمجھتے ہوں ۔ محاورہ، تشبیہ، استعارہ کی پہچان ہو، مشرقی شعری روایات اور مضامین کا آپ کو پہلے سے ادراک ہو، لغت و فرہنگ کا کسی قدر ذخیرہ رکھتے ہوں ، فنی نزاکتوں اور محاسن کا علم ہو اور ساتھ ہی مضمون کی نزاکت اور باریکی کا احاطہ کر سکیں۔ اب آپ سوچتے ہوں گے کہ مصروفیت کے اس دور میں کس کے پاس اتنا وقت ہے ، جو اتنے سارے گورکھ دھندوں میں پڑے ۔تو اس کا سادہ سا حل یہ ہے کہ آپ ڈاکٹر صاحب کی شرح کو پڑھیں ۔ کہ کتاب کی وجہ ٔتصنیف ہی یہی مشکلات ہیں جو عام قاری کو اس بابت پیش آتی ہیں اور اِن ہی کے سدّباب کے لیے یہ لکھی گئی ہے ۔
اگر میں اپنی بات کروں تو خود میں نے دیوانِ شیدا آج سے کوئی ایک دہائی قبل خریدا تھا۔ غزلیات کو پڑھنے کی دو تین بار کوشش کی لیکن بے سود، پلّے کچھ نہیں پڑھا ۔ ، رباعیات، جو نسبتاً شاعری کی آسان قسم ہے، پر زور آزمائی کی ، وہ بھی زیادہ تر سر کے اوپر ہی سے گزر گئے۔ دل برداشتہ ہو کر الماری میں رکھا ۔ اور پھر بھول گیا۔
کوئی دو سال قبل ڈاکٹر صاحب سے فیس بک پر اتفاق سے ملاقات ہوئی ۔ غالباً غالب کی کسی غزل کا پشتو ترجمہ تھا ، جو انہوں نے کیا تھا۔ پسند آیا اور اُن کو فالو کیا۔ وقتاً فوقتاً شیدا پر اُن کی تحریر کردہ تشریحات و توضیحات نظروں سے گزرتی رہیں۔ تب کہیں جا کر پتہ چلا کہ ، ’ان اشعار میں شاعر کیا فرما رہے ہیں‘ ،اور یہ کہ بطور ِ مجموعی شیدا کس پائے کے شاعر ہیں ،ان کا کام کن خصوصیات کا حامل ہے ، اور کس طرح اس کو پڑھنا چاہیے ۔
شیدا کے اس شعر کو مثال کے طور پہ یہاں ملاحظہ کیجیے(ترجمہ):
سختی سے کیجیے علاج سرکشوں کا
کہ شعلۂ آتش نہ بجھے آبِ گوہر سے
دیکھا جائے تو پہلی نگاہ میں یہ شعر کچھ بے معنی سا لگے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کس انداز سے اس کے معنی سمجھاتے ہیں ،دیکھیے (ترجمہ)’’ آبِ گوہر سے مراد گوہر یا موتی کی قدر و قیمت بھی ہے اور یہ بھی کہ موتی آب یعنی پانی میں پروان بھی چڑھتا ہے۔ لیکن گوہر کی یہ آب (یعنی چمک دمک) آگ کے شعلے کو تو نہیں بجھا سکتا ، کہ شعلہ سرکشی کرے، اپنا سر ااُٹھائے، اور غرور و تکبّر کرے۔ اس کا علاج اگر تندی یا سختی سے نہ کیا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو، اس لیے شیدا کہتے ہیں کہ گوہر کی آب یعنی نرمی اور سستی سے سرکش شعلے کا علاج نہ ہو بلکہ تندی سے ہو اور سماج میں سرکش لوگوں کا علاج بھی سختی سے کرنا چاہیے ۔ ‘‘
اسی طرح اس دوسرے شعر پر بھی نگاہ ڈالیے (ترجمہ):
کریں راست باز گریز کج طبعوں سے
کمان کی شست سے فرار ہو تیر بھی
بظاہر یہ شعر بھی قاری کو مبہم سا محسوس ہو کہ راست باز یا بھلے مانسوں سے کمان اور تیر کا کیا واسطہ، اور کج طبع یا بدخو سے ان کی کیا نسبت۔ لیکن یہاں بھی ڈاکٹر صاحب کا کمال ِ فن دیکھیے کہ کیسے وہ اس کے مخفی معنی افشا کرتے ہیں (ترجمہ)’’مفہوم یہ بیان ہوا ہے کہ راست باز یا سیدھے سادھے سچے لوگ کج طبع یا ٹیڑھی ، پست فطرت لوگوں سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے لیے شیدا کا یہ مشاہدہ دیکھیں کہ کمان ٹیڑھی شکل کا ہوتا ہے اور تیر سیدھا۔ اب کمان جتنا کھینچا جائے اتنا ہی یہ اور ٹیڑھا ہو اور تیر اتنا ہی اس سے دور مسافت طے کرے یا فرار اختیار کرے۔ یہی راست باز یعنی سیدھے لوگوں کی خصلت ہو کہ وہ بھی کج طبعوں اور بد خو لوگوں سے دور بھاگے ۔‘‘
اردو اور پشتو زبانوں میں گرچہ نازک خیالی کا رجحان قدرے کم اور دیر سے متعارف ہوا، فارسی میں اس کی اچھی خاصی تاریخ اور وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ بیدل کو اگر اس اسلوب کا سرخیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا، جس کے متعلق غالب کا یہ خراجِ تحسین ، ’طرزِ بیدل میں ریختہ کہنا ، اسداللہ خاں قیامت ہے‘ مقبول عام ہے۔ شوکت بخاری، صائب تبریزی کلیم کاشانی، ظہوری، جلال اسیر، اور نظیری وغیرہ اس اسلوب کے دوسرے مشہور شعراء ہیں ۔
غالب اور بیدل وغیرہ پر جہاں کئی ایک کتابیں اردو اور فارسی مصنفین رقم کر چکے ہیں ، شیدا کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے کلام پر بہت کم کام ہوا ہے،شاید ڈاکٹر انوارالحق کا ’دیوانِ شیدا‘ واحد وہ کتاب ہے جس کو ایک سنجیدہ کوشش کہا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف پورے دیوان کا اردو ترجمہ بلکہ اس کی شرح بھی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر جہان عالم کی ’تفہیم کاظم خان شیدا‘ بھی ایک اچھی کاوش ہے ، لیکن یہ صرف رباعیات کا احاطہ کرتی ہے۔
اس سلسلے میں جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ شیدا کی مشکل پسندی ہی ہے، یہ مشکل پسندی گوکہ زبان اور بیان دونوں اعتبار سے ہے لیکن لغت و فرہنگ کا مسئلہ اتنا گھمبیر نہیں جتنا کہ بقول ڈاکٹر صاحب ان کی فنی تیکنیک اور نازک خیالی ہے۔ اور یہ بات سو فیصد درست ہے کہ مشکل الفاظ کے معانی کا حل سیکنڈوں میں لغت رجوع کرنے سے نکل آتا ہے لیکن شعر میں موجود تہہ در تہہ معمّوں کا حل جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اور اس کے لیے اچھی خاصی ریاضت اور مغز خوری کرنی پڑتی ہے۔ گویا سر کھجائے، سر کپائے اور بال گرائے بِن یہ بیل منڈھے چڑھتے دکھائی نہیں دیتا ۔ یہی اس سبک کی خوبی بھی ہے اور خامی بھی ہے (بشرطیکہ ژرف نگاری اور باریک بینی کو اگر خامی تصّور کیا جائے)۔
دوسرے الفاظ میں یہ عام گل و بلبل کی شاعری یا بقول ڈاکٹر صاحب ہی ’ایک دونی دونی ، دو دونی چار‘ والی شاعری نہیں بلکہ ایک سنجیدہ چیز ہے اور شیدا جیسے صاحبِ طرز اور نازک خیال شاعر کے صوفیانہ اور فلسفیانہ مضامین کو سمجھنے کے لیے آپ کو ایک آزمودہ تیراک ہونا پڑتا ہے، جبھی آپ کے ہاتھ میں معانی کا کوئی گوہر آ تا ہے ورنہ صرف سمندر کے جھاگ سے ہی گزارا کرنا پڑے۔
پشتو کے اکثر کلاسیکی شعراء کی طرح شیدا کے حالاتِ زندگی پر بھی اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ نہ تو ان کی تاریخِ پیدائش کے متعلق کچھ وثوق سے کہا جا سکتا ہے ، نہ ہی تاریخ وفات کے بارے میں۔ یہاں تک کہ کسی کو ان کی قبر تک کا پتہ نہیں ۔ جو تھوڑا بہت ڈاکٹر صاحب جیسے محققین اب تک سامنے لاسکیں ہیں وہ یہ ہے کہ شیدا خوشحال خان خٹک کے خاندان کے چشمِ چراغ تھے۔ افضل خان خٹک کے نواسے تھے۔ ۱۷۲۷ کے لگ بھگ پیدا ہوئے ۔اوائلِ زندگی میں خاندانی رقابتوں سے دل برداشتہ ہو کر اپنے آبائی گاو ں، سرائے اکوڑہ ، کو خیرباد کہہ دیا۔ پہلے کچھ عرصہ کشمیر میں رہے، اور بعد ازاں ہندوستان کی اس وقت کی پشتون ریاست روہیل کھنڈ منتقل ہوئے اور اس کے صدر مقام رامپور میں سکونت اختیار کی۔ باقی ساری عمر رامپور میں ہی گزاری۔ صرف ایک بار سیر کی غرض سے حسن ابدال تک آئے، لیکن اپنے گائوں نہیں گئے۔ صوفی المشرب تھے۔ سلسلہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے ۔ خواجہ معصوم کے ہاتھ بیعت کیا تھا ۔ شاید مجرد تھے اور شادی کے بندھن میں نہیں بندھے ۔ ہندی سانولی حسیناؤں کا گرچہ جگہ جگہ ان کی غزلیات اور رباعیات میں ذکر ہے جو ہو سکتا ہے محض بطورِ استعارہ ہو اور اس کا ان کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ واللہ اعلم

Leave A Reply

Your email address will not be published.