اعتصام الحق
چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں واقع وسیع و عریض صحرائے تکلمکان کو کبھی صرف ریت، گرد و غبار اور دشوار گزار ماحول کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج یہی خطہ توانائی کی ایک نئی تبدیلی کی علامت بنتا جا رہا ہے۔یہاں ایک جانب زیر زمین تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں، وہیں دوسری جانب سورج کی بے پناہ روشنی کو استعمال کرتے ہوئے صاف اور پائیدار توانائی پیدا کی جا رہی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تاریم آئل فیلڈ نے رواں سال کے آغاز سے اب تک 1.1 ارب کلو واٹ گھنٹے سے زیادہ سبز بجلی پیدا کی ہے۔ یہ بجلی بنیادی طور پر صحرائے تکلمکان کے گرد و نواح میں قائم شمسی توانائی کے منصوبوں سے حاصل کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عملی مثال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کس طرح سخت ترین قدرتی ماحول کو بھی ترقی اور پائیداری کے مواقعوں میں بدل سکتی ہے۔
تاریم آئل فیلڈ چین کا تیسرا بڑا زمینی تیل و گیس کا ذخیرہ ہے، لیکن پیداوار کے لحاظ سے اسے ملک کا سب سے بڑا تیل و گیس کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سے نکالی جانے والی قدرتی گیس چین کے مشرقی صوبوں تک پہنچائی جاتی ہے اور کروڑوں لوگوں کی توانائی ضروریات پوری کرتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روایتی طور پر تیل اور گیس کی پیداوار کے لیے مشہور یہ خطہ اب صاف توانائی کے شعبے میں بھی نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔ تاریم آئل فیلڈ میں اب تک پانچ بڑے مرکزی شمسی توانائی کے پاور اسٹیشنز تعمیر کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 2.6 ملین کلو واٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ تیل اور گیس کے کنوؤں اور پیداواری اسٹیشنوں پر 239 تقسیم شدہ فوٹو وولٹیک منصوبے بھی قائم کیے گئے ہیں۔
چینی سرکاری ذرائع کے مطابق رواں سال مزید 1.8 ملین کلو واٹ صلاحیت کے نئے شمسی توانائی منصوبے مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد اس خطے کی سبز توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔ بعض رپورٹس کے مطابق 2026 کے اختتام تک تاریم آئل فیلڈ کی مجموعی شمسی توانائی صلاحیت 4 گیگا واٹ سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ منصوبے صرف بجلی پیدا نہیں کر رہے بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق شمسی پینلز کی تنصیب سے ریت کے طوفانوں کی شدت کم ہوتی ہے، زمین پر سایہ پیدا ہوتا ہے اور پینلز کے نیچے ڈرِپ آبپاشی کے نظام کے ذریعے نباتاتی رکاوٹیں قائم کی جاتی ہیں جو صحرا میں ریت کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ یوں توانائی کی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ ایک ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
تاریم آئل فیلڈ کی سبز توانائی پیداوار کی رفتار بھی قابلِ توجہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں یہاں شمسی توانائی سے تقریباً 26 کروڑ کلو واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی تھی۔ 2024 میں یہ مقدار بڑھ کر 1.34 ارب کلو واٹ گھنٹے تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں سالانہ پیداوار 2 ارب کلو واٹ گھنٹوں سے تجاوز کر گئی۔ صرف تین برسوں میں ہونے والی یہ ترقی چین کی توانائی منتقلی کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے
اس سبز بجلی کے اثرات بھی خاصے اہم ہیں۔ تاریم آئل فیلڈ کے حکام کے مطابق 2 ارب کلو واٹ گھنٹے سالانہ سبز بجلی تقریباً 18 لاکھ افراد کی سال بھر کی گھریلو بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ اتنی بجلی پیدا ہونے سے تقریباً 6 لاکھ ٹن معیاری کوئلے کے استعمال کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں تقریباً 10 لاکھ 70 ہزار ٹن کمی آتی ہے۔
اس وقت پیدا ہونے والی سبز بجلی کا تقریباً 8 فیصد حصہ خود تاریم آئل فیلڈ کی تیل و گیس پیداوار میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ باقی 92 فیصد قومی گرڈ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک ایسا نظام تشکیل پا رہا ہے جہاں روایتی توانائی اور قابلِ تجدید توانائی ایک دوسرے کی تکمیل کر رہی ہیں۔
تاریم آئل فیلڈ کی یہ کامیابی صرف ایک توانائی منصوبے کی کامیابی نہیں بلکہ اس بدلتی ہوئی سوچ کی عکاس ہے جس میں صحرا کو بنجر زمین نہیں بلکہ مستقبل کی توانائی کا خزانہ سمجھا جا رہا ہے۔