بیجنگ : دنیا بھر میں خوراک کا 45 واں عالمی دن منایا گیا۔ اسی مناسبت سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کروڑوں لوگ اب بھی بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور غذائی تحفظ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی چیئرمین کینتھ کوئن نے چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے کہ چین اتنے طویل عرصے تک مستحکم خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔اپنے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کر نے کے ساتھ ساتھ چین نے ہمیشہ کھلا رویہ برقرار رکھتے ہوئے عالمی فوڈ گورننس میں حصہ لیا ہے۔ کینتھ کوئن کا خیال ہے کہ چین کی عملی مثال نے عالمی سطح پر قابلِ تقلید حکمرانی کا نمونہ فراہم کیا ہے،اور چین دنیا کے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی قوت ہے۔واضح رہے کہ کینتھ کوئن نے 2025 کی عالمی زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی انوویشن کانفرنس میں شرکت کے لیے چین کا خصوصی دورہ کیا ہے۔
Trending
- مذاکرات:300 غیرملکی صحافیوں کیلیے بہترین سہولیات
- 4 شکستوں کے بعد اجتماعی اچھی کارکردگی نے فتح کی راہ پر گامزن کیا، محمد علی
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس پر برقرار، مالیاتی نظم و ضبط تسلی بخش قرار
- بیساکھی میلہ، حسن ابدال میں مرکزی تقریب کی تیاریاں مکمل، سیکیورٹی کے سخت انتظامات
- آصف محمود کا دوبارہ پاکستان کیلیے کھیلنے سے متعلق ذومعنی جواب
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- حکومت کا اے آئی کیلیے 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ
- پی ایس ایل: انگلینڈ کے جارح مزاج بلے باز پاکستان کیلیے روانہ
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟