بیجنگ : دنیا بھر میں خوراک کا 45 واں عالمی دن منایا گیا۔ اسی مناسبت سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کروڑوں لوگ اب بھی بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور غذائی تحفظ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی چیئرمین کینتھ کوئن نے چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے کہ چین اتنے طویل عرصے تک مستحکم خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔اپنے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کر نے کے ساتھ ساتھ چین نے ہمیشہ کھلا رویہ برقرار رکھتے ہوئے عالمی فوڈ گورننس میں حصہ لیا ہے۔ کینتھ کوئن کا خیال ہے کہ چین کی عملی مثال نے عالمی سطح پر قابلِ تقلید حکمرانی کا نمونہ فراہم کیا ہے،اور چین دنیا کے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی قوت ہے۔واضح رہے کہ کینتھ کوئن نے 2025 کی عالمی زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی انوویشن کانفرنس میں شرکت کے لیے چین کا خصوصی دورہ کیا ہے۔
Trending
- آئندہ مالی سال جی ڈی پی کا مجموعی ہدف ایک لاکھ 43 ہزار 604 ارب مقرر
- عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا ہو گیا
- غیر رجسٹرڈ افراد سے ودہولڈنگ ٹیکس کا دائرہ بڑھانے کی تجویز
- نئے مالی سال میں حکومتی ترجیح میں شامل بڑے منصوبوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں
- چھوٹے دکانداروں کیلئے فکس ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تجویز
- relief for salaried class recommended tax rate
- بجٹ 27-2026ء میں اگلے مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4 فی صد مقرر
- بجٹ 2026-2027 پیٹرولیم لیوی پر بڑے اضافے کی تجویز
- سولر پینل پر کوئی ٹیکس نہیں بڑھے گا
- سولر کی وجہ سے بجلی مہنگی نہیں ہوئی، پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا جارہا ہے، ایف بی آر حکام