بیجنگ : دنیا بھر میں خوراک کا 45 واں عالمی دن منایا گیا۔ اسی مناسبت سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کروڑوں لوگ اب بھی بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور غذائی تحفظ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی چیئرمین کینتھ کوئن نے چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے کہ چین اتنے طویل عرصے تک مستحکم خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔اپنے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کر نے کے ساتھ ساتھ چین نے ہمیشہ کھلا رویہ برقرار رکھتے ہوئے عالمی فوڈ گورننس میں حصہ لیا ہے۔ کینتھ کوئن کا خیال ہے کہ چین کی عملی مثال نے عالمی سطح پر قابلِ تقلید حکمرانی کا نمونہ فراہم کیا ہے،اور چین دنیا کے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی قوت ہے۔واضح رہے کہ کینتھ کوئن نے 2025 کی عالمی زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی انوویشن کانفرنس میں شرکت کے لیے چین کا خصوصی دورہ کیا ہے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ