News Views Events

ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس ۔ چین کی ڈیجیٹل دنیا کی قیادت کی جھلک

0

 

اعتصام الحق

 

 

چین میں ہر سال منعقد ہونے والی ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس ڈیجیٹل ترقی اور عالمی سائبر گورننس پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اہم بین الاقوامی فورم بن چکی ہےجہاں دنیا بھر سے انٹرنیٹ انڈسٹری ، ٹیکنالوجیکل کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔اس کانفرنس کا آغاز نومبر 2014 میں ہوا تھا، جب چین نے پہلی مرتبہ انٹرنیٹ کی ترقی، اشتراک اور نظم و نسق پر عالمی مکالمے کی میزبانی کی ۔ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس کا مقصد انٹرنیٹ کے بہتر استعمال، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، سائبر سکیورٹی، اور عالمی تعاون کے لیے پالیسی سطح پر رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

ورلڈ  انٹرنیٹ کانفرنس 2025  کا آغاز چین کے صبہ زے  جیانگ کے قصبے ووچن میں 7 نومبر کو ہوا تھا اوریہ 9 نومبر کو مکمل ہوئی ۔ اس  سمٹ کا موضوع  "کھلا تعاون، محفوظ اور جامع ڈیجیٹل انٹیلی جنس مستقبل کی تعمیر اور سائبر اسپیس کے ہم نصیب معاشرے کی مشترکہ تعمیر” تھا ۔سمٹ میں ” ڈیجیٹل اکانومی اور ثقافتی ورثے کے ڈیجیٹل تحفظ اور وراثت سمیت موضوعات پر 24 ذیلی فورمز  منعقد کیے  گئے ۔ سمٹ میں 130 سے زائد ممالک اور خطوں کے 1,600 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔

چینی اور غیر ملکی مہمانوں نے کہا کہ  حال ہی میں ہونے والے بیسویں  سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے    چوتھے کل رکنی اجلاس میں اگلے پانچ سالوں میں چین میں انٹرنیٹ کے شعبے کی اختراعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جو بلاشبہ عالمی انٹرنیٹ کی ترقی کے لیے مزید نئے مواقع فراہم کریں گے۔  شرکاء کا ماننا  تھاہ کہ جدت پر مبنی ترقی پر عمل کرتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور ایپلی کیشنز کو مقبول عام بنانا ہوگا۔ اسی طرح  مشترکہ سلامتی کی بنیاد پر ایک پرامن اور مستحکم سائبر اسپیس  قائم کرنا بھی ضروری ہے ۔ افرادی و ثقافتی تبادلوں کو برقراررکھتے ہوئے  ایک خوبصورت اور ہم آہنگ  دنیا کی تعمیر  اور ساتھ ہی ساتھ    تمام ممالک کی سائبر خودمختاری کا احترام  کرتے ہوئَے ایک منصفانہ اور معقول گورننس سسٹم  کا قیام بھی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔

سمٹ کے شرکاء نے اس سمٹ میں مختلف اہم نتائج حاصل کیے اور کئی اہم امور پر اتفاق رائے بھی حال کیا۔لائٹ آف انٹرنیٹ  ایگزیبشن  بھی ایک بڑی کامیابی رہی، جس میں ایک ہی دن میں 17000 سے زائد افراد نے نمائش میں حصہ لیا ۔اس کے علاوہ ترقی اور تعاون، ٹیکنالوجی اور صنعت، علوم انسانی اور معاشرہ، حکمرانی اور سلامتی، اور مصنوعی ذہانت جیسے پانچ بڑے شعبوں کا احاطہ کرنے والے 24 ذیلی فورمز کے دوران اہم دستاویزات اور رپورٹس جاری کی گئیں۔

دو اہم بلیو بکس  "چائنا انٹرنیٹ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025” اور "ورلڈ انٹرنیٹ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025″  بھی اس  سمٹ کے اہم پہلو تھے۔ یہ رپورٹس مصنوعی ذہانت کے  full-domain empowerment  کے رجحان پر زور دیتی ہیں۔”چائنا انٹرنیٹ ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025”  میں بتایا گیا کہ چین میں مصنوعی ذہانت  اور حقیقی معیشت کے ساتھ انضمام تیز ی سے ہو رہا ہے جہاں بڑے ماڈلز inference efficiency کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس  رپورٹ  میں یہ بھی  بتایا گیا ہے کہ چین کے پاس دنیا کے  60 فیصد اے آئی  پیٹنٹس ہیں۔ عالمی رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی ترقی میں عالمی سطح پر ہونے والی کامیابیوں پر روشنی ڈالی گئی، جس میں multimodal large models کو ایک فرنٹیئر کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے اور  مینو فیکچرنگ  اور ہیلتھ کئیر  جیسے شعبوں میں embodied intelligence کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔عالمی رپورٹ میں اس بات پر  بھی زور دیا گیا ہے کہ اے آئی ریگولیشن اور گورننس عالمی سائبر اسپیس گورننس کے مرکزی مسائل ہیں، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی تعاون کو بڑھایا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اے آئی  انسانیت کو محفوظ، قابل اعتماد اور پائیدار طریقے سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ان بلیو بکس کا مسلسل اجراء، جو اب لگاتار نو سالوں سے جاری ہے، ووچن سمٹ کی عالمی انٹرنیٹ تحقیق و ترقی میں ایک اہم شراکت ہے۔

ورلڈ انٹرنیٹ کانفرنس چین کے لیے نہ صرف ایک سفارتی اور تکنیکی پلیٹ فارم ہے بلکہ یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ چین ڈیجیٹل گورننس میں عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔ یہاں پیش کیے جانے والے خیالات اور تجاویز عالمی انٹرنیٹ پالیسی پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔یہ کانفرنس چین کے “ڈیجیٹل سلک روڈ” وژن کو آگے بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہے، جس کے تحت  چین  ڈیجیٹل رابطوں، ڈیٹا کے تبادلے، اور ٹیکنالوجی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.