وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina Abramovic) تھا‘ اس نے 1974ء میں نیپلز کی گیلری میں ایک عجیب نفسیاتی تجربہ کیا‘ وہ گیلری میں کھڑی ہو گئی اور اس کے ساتھ ایک بورڈ لگا دیا گیا جس پر لکھا تھا میںا یک اوبجیکٹ (ہدف) ہوں‘ آپ چھ گھنٹے تک میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ آپ کو کسی حرکت پر کوئی سزا نہیں ملے گی‘ آپ کے خلاف کوئی کیس ہو گا اور نہ کوئی آپ کو برا بھلا کہے گا‘ مرینا کے قریب ایک لمبی میز پر 72 مختلف چیزیں اور آلات پڑے تھے‘ اس سے کھیلنے یا اسے تنگ کرنے والے لوگ ان 72 اشیاء میں سے کوئی بھی چیز استعمال کر سکتے تھے‘ میز پر ٹشو پیپر سے لے کر لوڈڈ پستول تک رکھا تھا‘ لوگ آئے اور شروع کے تین گھنٹے مرینا کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا‘ کسی نے اسے میز سے پھول اٹھا کر پیش کیا‘ کسی نے وائین دی‘ کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا‘ کسی نے اسے شہد چٹوائی‘ کسی نے اس پر پرفیوم چھڑکا‘ کسی نے اسے بریڈ کا ٹکڑا کھلایا اور کسی نے اس کے ساتھ فلرٹ کیا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا توں توں لوگوں کو یہ یقین ہوتا گیا ان کی حرکتیں قانون سے بالاتر ہیں‘ انہیں کوئی دیکھ رہا ہے اورنہ ان کی حرکتیں ریکارڈ ہو رہی ہیں‘ اس یقین کے ساتھ ہی لوگوں کے اندرچھپے درندے باہر آنے لگے اور انہوں نے مرینا پر ہر قسم کا تشدد شروع کر دیا‘ کسی نے اسے بلیڈ سے زخمی کر دیا‘ کسی نے اس کے کپڑے پھاڑ دیے‘ کسی نے اس کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی‘ کسی نے اسے کوڑوں سے پیٹنا شروع کر دیا یہاں تک کہ آخر میں ایک جنونی شخص نے لوڈڈ پستول اٹھا کر مرینا کو گولی مارنے کی کوشش بھی کی‘ اسے بڑی مشکل سے پکڑ کر روکا گیا‘ مرینا کا یہ تجربہ ایک نفسیاتی سٹڈی تھی‘ یونیورسٹی آف نیپلز اس کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی تھی انسان کے اندر خوف ناک درندے چھپے ہوتے ہیں اگر اس کے سامنے قانون‘ انصاف اور اخلاقیات کی دیواریں نہ ہوں تو یہ باہر نکل کر سب برباد کر دیتا ہے‘ انسان کے سامنے جب یہ دیواریں گر جاتی ہیں اور اسے جب یہ یقین ہو جاتا ہے میں کسی اخلاقی حد کا پابند نہیں ہوں‘ مجھے انصاف کے کسی کٹہرے میں کھڑا نہیں کیاجا سکتا یا میں کسی قانون قاعدے کا پابند نہیں ہوں تو پھر اس کے اندر چھپا درندہ کم زور لوگوں کے ساتھ وہ سلوک کرتا ہے جو مرینا کے ساتھ نیپلز کی گیلری میں ہوا‘ اس تجربے سے ثابت ہوا انسان کی ڈارک سائیڈ ہولناک اور ناقابل بیان ہے‘ یہ جب درندہ بنتا ہے تو یہ درندوں کو بھی شرما دیتا ہے۔
آپ اس تجربے کو آج کی ایران امریکا جنگ میں رکھ کر دیکھیں‘ آپ کو ساری حقیقتیں سمجھ آ جائیں گی‘ ایران کا آخرکیا قصور ہے؟ ایران کے تین قصور ہیں‘ ایک۔ ایران میں تیل اور گیس کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں‘ ایرانی زمین کے اندر 208 بلین بیرلز تیل اور121ٹریلین کیوبک میٹرگیس موجود ہے اور آج کی معیشت تیل اور گیس کے بغیر نہیں چل سکتی‘ دو۔ ایران اپنی عزت اور انا پر کمپرومائز نہیں کررہا‘ یہ اپنی چھ ہزار سال کی تاریخ اور تہذیب پر بھی نازاں ہے‘ یہ چاہتا ہے اس کی عزت کی جائے اور اسے بھی’’ جیو اور جینے دو‘‘ کے اصول پر عزت اور آزادی کے ساتھ جینے دیا جائے اور تین۔ یہ چپ چاپ اپنا دفاع مضبوط کرتا رہا‘کیوں؟ کیوں کہ یہ جانتا تھا امریکا تیل اور گیس کے چکر میں کبھی نہ کبھی اس پر حملہ کرے گا لہٰذا یہ خاموشی سے اپنے دفاع کا بندوبست کرتا رہااور یہ بندوبست بھی آخر میں اس کا جرم بن گیا۔ دوسری طرف امریکا سپر پاور ہے اور اس کا خیال ہے میں اگر سپر پاور ہوں تو پھر پوری دنیا کے خزانوں پر میرا حق ہے اور یہ اپنا یہ ’’حق‘‘ لینے کے لیے کبھی اِدھر ٹکر مار دیتا ہے اور کبھی اُدھر۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک مکمل ریڈنیک(سرخ گردن) امریکی ہے‘ میں بات آگے بڑھانے سے قبل آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں دنیا میں پانچ رنگتوں کے انسان بستے ہیں‘ سفید‘ سیاہ‘ پیلے‘ بھورے (برائون) اور سرخ۔ سفید لوگ ذہنی طور پر تگڑے ہوتے ہیں‘ ان کا دماغ ہمیشہ حل تلاش کرتا ہے‘ یہ سائنسی بھی ہوتے ہیں‘ دنیا کی زیادہ تر ایجادات گوروں (سفید فاموں) نے کیں حتیٰ کہ ٹھنڈے علاقوں میں رہنے کے باوجود ائیر کنڈیشن اور فریج بھی گوروں نے ایجاد کیا‘ دنیا کے زیادہ تر مسائل کا حل بھی گوروں نے دیا‘ جانوروں کی خوراک سے لے کر اے ٹی ایم اور کرپٹو کرنسی تک نوے فیصد سسٹم گوروں نے بنائے‘ دوسرے نمبر پرسیاہ فام آتے ہیں‘ یہ جسمانی لحاظ سے تگڑے ہوتے ہیں‘ یہ لڑنا بھڑنا‘ مرنا اور مارنا جانتے ہیں‘ ان کی ٹانگیں اور پھیپھڑے تگڑے ہوتے ہیں چناں چہ دنیا کے زیادہ تر سٹار ایتھلیٹس اور باکسرز سیاہ فام ہوتے ہیں‘ یہ جنگوں میں بھی کمال کرتے ہیں‘تیسرے لوگ ییلو ہیں‘ ییلو لوگ (پیلی رنگت) ان تھک ہوتے ہیں‘ یہ تھکتے نہیں ہیں‘ آپ انہیں کسی کام پر لگا دیں‘ یہ اسے مکمل کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ جاپانی‘ چینی‘ کورین‘ سنگاپورین‘ ملائیشین اور منگول اس کی مثال ہیں۔ چوتھے لوگ برائون ہیں‘ یہ برائون لوگ شکایتی اور سست ہوتے ہیں‘ دنیا میں سب سے زیادہ شکایتیں ہم برائون لوگ کرتے ہیں‘ ہم بے انتہا سست بھی ہیں‘ گھنٹے کا کام ہفتے میں بھی ختم نہیں کریں گے‘ ہم برائون لوگ ٹک کر نہیں بیٹھ سکتے‘ آپ کسی کو گھنٹہ بھر بٹھا کر دکھا دیں‘ اسے دس منٹ بعد پیشاب آ جائے گا یا یہ سگریٹ پینے کے لیے باہر چلا جائے گا اور اگر یہ بیٹھ بھی جائے گا تو بھی یہ کام نہیں کرے گا‘ ہم لوگ سیدھے بھی کھڑے نہیں ہو سکتے‘ ہم چند منٹ بعد دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیں گے یا پھر کرسی کا سہارا لے لیں گے لیکن سیدھے کھڑے نہیں ہوں گے اور آخر میں سرخ نسل آتی ہے‘ یہ بدمعاش یا کن ٹٹے ہوتے ہیں‘ یہ ہر مسئلہ طاقت کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘یہ دروازے توڑ کر اندر داخل ہوں گے اور لاشوں کے انبار لگا دیں گے‘ امریکیوں کی کثیر تعداد ریڈنیک مین (سرخ گردن والا گورا)پر مشتمل ہے‘ یہ لوگ بُلی کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں‘ کھلی دھمکیاں دیتے ہیں اور اگر دوسرا دب جائے تو اس کا بیڑا غرق کردیتے ہیں اور اگر وہ نہ دبے تو یہ اس کے مرنے تک اس پر وار کرتے رہتے ہیں بہرحال ہر دو صورتوں میں نقصان دوسرے کا ہوتا ہے‘ امریکی ریڈ نیک ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ ان کے لیڈر ہیں۔
امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا جامع ’’ورلڈ آرڈر‘‘ بنایا تھا‘ اس ورلڈ آرڈر کی روح امریکی ڈالر تھا اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک اس کے بینک‘ امریکا نے عالمی تنازعوں کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ بنائی اور تجارت کے لیے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن‘ عالمی صحت کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اپنے دشمنوں کو سزا دینے کے لیے عالمی عدالت انصاف قائم کی‘ اس نے1949ء میں گوروں کو بچانے کے لیے نیٹو کی شکل میں عالمی فوج بھی بنا دی اور تیل اور گیس کی مسلسل سپلائی کے لیے عرب ملکوں پر بادشاہ بٹھا دیے جب کہ چین کو اپنا فیکٹری ایریا بنا دیا‘ یہ سسٹم ٹھیک چل رہا تھا لیکن پھر ٹرمپ آیا اور اس نے اٹلی کی مرینا پر پستول تان لی اور پوری دنیا سہم کر رہ گئی‘ ٹرمپ نے اقوام متحدہ سے لے کر نیٹو تک ہر چیز تباہ کر دی‘ ڈالر کی وقعت بھی تاریخ میں پہلی بار ختم ہونے لگی‘ ٹرمپ نے پہلے غزہ کی بربادی پر سائن کیے پھر یہ وینزویلا پر حملہ آور ہوا اور دنیا کے تیل کے سب سے بڑے ذخیرے پر قابض ہو گیا‘ یہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اس کی اہلیہ سیلیا کو اٹھا کر نیویارک لے آیا اور یہ اس کے بعد ایران پر بھی حملہ آور ہو گیا‘ ایران کے پاس اب دو آپشن تھے‘ یہ بھی وینزویلا کی طرح شکست تسلیم کر لیتا اور گیس اور تیل کے ذخائر امریکا کے حوالے کر دیتا یا پھر یہ مردوں کی طرح سینہ ٹھونک کر کھڑا ہو جاتا‘ ایران دوسرے آپشن پر چلا گیااور یہ سینہ تان کر دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے کھڑا ہو گیا‘ امریکا اور اسرائیل دونوں نے مل کر ایران پر 40 دن بمباری کی‘ صرف امریکا نے 13000 حملے کیے‘ ایران کی بحریہ‘ فضائیہ اور فوج اڑا دی‘ ایٹمی ریکٹر تک تباہ کر دیے لیکن ایران نہیں جھکا‘ اس نے ہار نہیں مانی‘ یہ آج بھی ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
ہم ایک بار پھر مرینا کے تجربے کی طرف واپس آتے ہیں‘ مرینا نے چھ گھنٹوں کے تجربے میں ثابت کیا تھا انسان (سپر پاورز بھی) کو اگر قانون کا ہاتھ‘ اخلاقیات کا دبائو اور انصاف کا خوف نہ ہو تو دنیا میں اس سے بڑا درندہ کوئی نہیں ہوتااور امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ اس فیز میں چلا گیا ہے‘ اس کا خیال ہے اسے کوئی ضابطہ‘ قانون اور اخلاقیات نہیں روک سکتی لہٰذا یہ اس وقت درندہ ثابت ہو رہا ہے‘ یہ مرینا جیسی دنیا کے ساتھ درندگی کر رہا ہے لیکن ایران نے اسے روک کر دنیا کو یہ پیغام دیا اگر ابابیل بھی ہمت کرے تو یہ ہاتھیوں کا بھرکس نکال سکتی ہے‘ یہ انہیں دوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے اور امریکا اس وقت دوڑ رہا ہے‘ نیٹو اور یورپی یونین نے بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے‘ ترکیہ اور پاکستان ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور چین اور روس بھی امریکا کے مخالف ہیں لہٰذا ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا دونوں ایران میں پھنس چکے ہیں اور یہ اب بڑی حد تک ایران کے رحم و کرم پر ہیں‘ ایران اگر کل تباہ بھی ہو جاتا ہے یایہ ڈیل پر مجبور ہو جاتا ہے تو بھی یہ امریکا کو لے کر بیٹھ جائے گا‘ یہ دنیا میں یہ ثابت کرنے میں کام یاب ہو جائے گا اگر دنیا میں قانون اور اخلاقیات کی حکمرانی نہیں ہوگی تو پھر یہ دنیا باقی نہیں رہ سکے گی اور یہ ایران کی سب سے بڑی کام یابی ہے‘ اس نے دنیا کو بتا دیا ہیومین رائیٹس‘ ہیومین رائیٹس کی مالا جپنے والوں کے اندر کتنے بڑے درندے چھپے ہوئے ہیں‘ یہ انسانوں کی شکل میں کتنے بڑے عفریت ہیں؟۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.