News Views Events

منصوبہ بندی اور عملدر آمد ۔چین کی ترقی کا راز

0

 

اعتصام الحق

 

کچھ عرصہ قبل ہی چین کی بیسویں قومی کانگریس کے چوتھے کل  رکنی اجلاس میں چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے   کے لیے لائحہ عمل تیار ہوا۔تجاویز نامی اس دستاویز میں چین میں آئندہ پانچ سالوں کے لیے ہر شعبے کو ترجیحی طور پر دیکھا گیا اور جانا گیا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں چین کو اپنی  ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے کس سمت میں اور  کس انداز میں ترقی کرنا ہو گی ۔چین کی معاشی ترقی کی مستقل بہتر رفتار کو برقرار رکھنے کی کلید کے  طور پر ان پانچ سالہ منصوبوں  کی انتہائی اہمیت ہے ۔

اس ضمن میں چودھویں پانچ سالہ  منصوبے میں  جن منصوبوں پر اس مدت میں کام کا آغاز کرنا تھا وہ بھی جاری و ساری ہیں ۔حال ہی میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق چین نے 2021  تا 2025   کے  چودھویں  پانچ سالہ منصوبے کی مدت میں شامل بڑے تعمیراتی منصوبوں پر مستحکم پیشرفت کی ہے جو اعلی معیار کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے مضبوط تعاون فراہم کرتی ہے ۔بیجنگ سب وے لائن 22 کے حہ بے   سیکشن کے لیے ریلوے ٹریک  بچھانے کا کام  شمالی چین کے صوبہ  حہ بے  میں باضابطہ طور پر شروع ہوا ۔یہ بیجنگ اور  حہ بے  کو جوڑنے والی پہلی ریل ٹرانزٹ لائن ہے ، جو تقریبا 81 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی ہے اور اس میں 22 اسٹیشنز  ہیں ۔ یہ  ٹریک اہم علاقوں کو جوڑتا ہے ،  جن میں  بیجنگ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ، بیجنگ سب سینٹر ، پنگگو نیو ٹاؤن اور  حہ بے کا یانجیاؤ ہائی ٹیک انڈسٹریل ڈویلپمنٹ زون  شامل ہیں ۔اس لائن کے فعال ہونے کے بعد  یانجیاؤ سے بیجنگ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ  تک سفر کا سب سے کم وقت تقریبا 32 منٹ کا ہوگا ، جس سے بیجنگ اور  حہ بے  دونوں شہروں  کے رہائشیوں کے لیے  آمد و رفت میں مزید تیزی آئے گی ۔

اسی طرح مشرقی چین کے انہوئی صوبے میں ، چاؤہو-مانشان انٹرسٹی ریلوے  ٹریک پر بھی کام کا آغازہو گیا ہے  جس کی تکمیل اگلے سال متوقع ہے ۔ یہ نیا ریپڈ کوریڈور دریائے یانگسی ڈیلٹا کے علاقے کی مربوط ترقی کو مزید فروغ دے گا ۔شمال مغربی چین کے صوبہ گانسو کے گانن شی زانگ خود اختیار پریفیکچر میں ، شیننگ-چنگڈو ریلوے کی گیئر ٹنل  گزشتہ ہفتے  کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی ۔ 3, 300 میٹر کی اوسط بلندی کے ساتھ ، یہ سب سے اونچی سرنگ ہے ۔یہ لائن تین صوبوں چنگھائی ، گانسو اور سیچھوان کو جوڑتی ہے ۔ ایک بار مکمل طور پر آپریشنل ہونے کے بعد ، شیننگ سے چنگڈو تک سفر کا وقت تقریبا 10 گھنٹے سے کم ہو کر  ساڑھے 4   گھنٹے رہ جائے گا ۔ریلوے اور زمینی سفر کے ان بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ ، چین کے  چودھویں  پانچ سالہ منصوبے کے تحت پانی کے تحفظ کے ایک اہم منصوبے کے طور پر ، مشرقی چین کے صوبے  شیڈونگ  کے  شہر لینئی  میں مینگھے شوانگھو ریزروائر کی تعمیر زوروں پر ہے ۔اگلے سال مکمل ہونے کے بعد ، اس سے دریائے ییہی کے طاس میں سیلاب پر قابو پانے ، پانی کی فراہمی اور آبپاشی میں نمایاں بہتری  کی توقع ہے ، جس سے زرعی پیداوار اور خوراک کی حفاظت میں مزید مدد ملے گی ۔مزید یہ کہ جنوبی چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر ژان جیانگ میں ، خلیج بئیے بو  کے علاقے میں  آبی وسائل کو  مختص کرنے کا ایک  منصوبہ مکمل ہونے والا ہے ۔یہ منصوبہ  جو  2031 میں کام شروع  کرے گا ، 490 کلومیٹر پر محیط ہے اور  یہ اس راستے کے  12 آبی ذخائر کو جوڑے گا ، جس سے 18 ملین سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوگا ۔جنوب مغربی چین کے صوبہ سیچوان کے نانچونگ شہر میں ، تنگزیکو آبپاشی کے علاقے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر جاری ہے اور توقع ہے کہ 2027 تک مکمل اور آپریشنل ہوجائے گی ۔

چین کے پانچ سالہ منصوبے ملکی ترقی  میں  ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں  جو معاشی و سماجی ترقی کے لیے واضح راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ یہ منصوبے مربوط منصوبہ بندی، وسائل کے موثر  اور طویل المدتی اہداف کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ چین نے ان منصوبوں کے ذریعے غربت میں کمی، صنعتی ترقی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ پاکستان بھی  ان تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے قومی ترقی کے اہداف کے مطابق جامع منصوبہ بندی کر سکتا ہے، خاص طور پر انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ترجیحات طے کر سکتا ہے۔ چین کی طرح پاکستان بھی اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر ترقی کے ہدف کے حصول کے لیے مربوط حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.