ٹوکیو:جاپان کے سابق وزیر اعظم ایشیبا شیگیرو نے کہا کہ جاپان کے لیے جوہری ہتھیاروں کا حصول “بالکل مفید نہیں ہوگا”۔ایشیبا شیگیرو نے کہا کہ اگر جاپان کے پاس جوہری ہتھیار ہوں تو اسے “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے” اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے باہر نکلنا پڑے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سے جاپان کے توانائی نظام کی حمایت کرنے والی جوہری توانائی کی پالیسی ناکام ہو جائے گی، اور “یہ جاپان کے لیے بالکل مفید نہیں ہوگا”۔18 دسمبر کو جاپان کے وزیر اعظم آفس کے ایک اہلکار نے دفتر کے نامہ نگاروں سے کہا کہ “جاپان کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہئیں”۔ اس بیان کے انکشاف کے بعد، جاپان میں اس پر تنقید ہوئی ہے۔ایک اور اطلاع کے مطابق 17 سے 22 دسمبر تک، جاپان کے متعدد امن گروپوں نے ٹوکیو میں تھیم نمائش کا انعقاد کیا، جس میں جاپان کی جارحیت کی تاریخ کو بے نقاب کیا گیا اور جاپان کی حکومت سے کہا گیا کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے اور اس دعوے کی مخالفت کرے کہ “جوہری ہتھیار رکھنے چاہئیں”۔ نمائش میں چین کے خلاف جارحیت کرنے والی جاپانی فوج کی 731 یونٹ کے جرائم اور ہیروشیما اور ناگاساکی کے ایٹمی بم دھماکوں سمیت تاریخی حقائق کو دکھا کر جاپان کی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی جارحیت کی تاریخ اور ایٹمی بم کی وجہ سے ہونے والے نقصانات پر گہری نظر ڈالے۔
Trending
- شاہین آفریدی کا ٹیسٹ ٹیم میں واپسی کا عزم، ریڈ بال کرکٹ کو پہلی ترجیح قرار دے دیا
- ایران سے پاکستان کی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ
- رضا اللہ کی دھواں دار بیٹنگ سے انگلینڈ بے بس، سابق انگلش کپتان اپنی ٹیم پر برس پڑے
- کرسٹیانو رونالڈو ایک انسٹاگرام پوسٹ کا کتنا معاوضہ لیتے ہیں؟ حیران کن انکشاف
- چینی صدر کی برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کامیابی سے مکمل
- چائنا انٹرنیشنل فیئر فار ٹریڈ ان سروسز ، کثیر القومی کمپنیوں کے لیے چین کے نئے مواقع کا مرکز بن گیا
- نئے عہد کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیش رو قوت بنیں اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھائیں، چینی صدر
- 18 ویں برکس سربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری
- چین نے ہمیشہ چین-بھارت تعلقات کو تزویراتی اور طویل مدتی نقطہ نظر سے دیکھا ہے، چینی صدر
- اس وقت مختلف خطرات اور چیلنجز یکے بعد دیگرے سامنے آرہے ہیں، چینی صدر