ٹوکیو(انٹرنیشنل ڈیسک)متعدد بین الاقوامی شخصیات نے کہا ہے کہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے غلط بیانات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جو جاپان کے لیے ناقابل تصور نتائج لائے گی اور خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچائے گی۔ بیلاروس کی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے نظریاتی سیکرٹری پیٹر پیٹررووسکی کا خیال ہے کہ جاپانی وزیر اعظم کے غلط بیانات اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح سے مکمل طور پر متصادم ہیں۔ سانائے تاکائیچی حکومت جاپانی عوام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، عسکریت پسندی کے ایک نئے دور پر زور دے رہی ہے، تناؤ بڑھا رہی ہے، اور تنازع پیدا کر رہی ہے۔ ایرانی سیاسی تجزیہ کار حسین نے کہا کہ اگر سانائے تاکائیچی اسی راستے پر چلتی رہیں تو جاپان کو ناقابل تصور تنہائی اور بے بسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قازقستان بزنس ڈیلی کے چیف ایڈیٹر سیرک کورزوم بائیف نے کہا کہ جاپان کے جوہری ہتھیار رکھنے کے بارے میں جاپانی حکام کے بیانات انتہائی مضحکہ خیز ہیں۔ سانائے تاکائیچی کے تائیوان کے حوالے سے غلط بیانات کے تناظر میں، 23 دسمبر کی شام کو، جاپانی شہریوں نے ٹوکیو کے مرکز میں ایک اور احتجاجی ریلی نکالی، جس میں سانائے تاکائیچی سے فوری طور پر اپنے غلط بیانات واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جاپان نے اپنی عسکری جارحیت پر کبھی صحیح معنوں میں غور و فکر اور معافی نہیں مانگی ہے۔ تاکائیچی حکومت نے جو کچھ بھی کیا،وہ جاپانی عوام کے حقیقی خیالات کے بالکل برعکس ہے۔
Trending
- پی ایچ ایف کا سینئر، جونیئر اور انڈر 18 ٹیموں کیلیے نئے مینجمنٹ پینلز کا اعلان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
- ارجنٹینا کے لیجنڈ میراڈونا کی موت کا معمہ، کیس کی دوبارہ سماعت کا فیصلہ
- سیکیورٹی اداروں کی کارروائی؛ بھارتی ایجنسی کے لیے جاسوسی کرنے والے 3 افراد گرفتار
- قلندرز اور گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑیوں کی کینسر سے متاثر بچوں سے ملاقات
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا