بیجنگ :متعدد ممالک کی شخصیات کا ماننا ہے کہ عالمی برادری کو جاپان میں عسکری توسیع پسندی کی بحالی کے رجحان پر انتہائی چوکس رہنا چاہیے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری ساکس نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جاپان امن پسندی سے انحراف کر رہا ہے، عسکریت پسندی ابھررہی ہے اور جاپان کے فوجی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ طرز عمل جاپان کے اپنے مفاد میں نہیں ہے۔ عسکریت پسندی خطرناک ہے اور آج کی دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیئے۔ بلغراد یونیورسٹی کے سکول آف اکنامکس کے پروفیسر ویلکو میوشکووچ کا خیال ہے کہ جاپان کے بیانات سے کشیدگی بڑھے گی اور عالمی معیشت نیز خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ نائجیریا میں سینٹر فار چائنا سٹڈیز کے ڈائریکٹر چارلس اوونائیجو نے کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کا اندرونی معاملہ ہے ۔لہذا، آبنائے تائیوان کی صورت حال کا جاپان کے لئے خطرہ بننے کا کوئی بھی بیانیہ، چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ دنیا کے تمام ممالک کو انتہائی چوکس رہتے ہوئے جاپان کو اپنی غلطیوں کو دہرانے اور بین الاقوامی نظام کو سنگین طور پر نقصان پہنچانے کے پرانے راستے پر چلنے سے روکنا چاہیے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ