ملتان (نمائندہ اپنا وطن) جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ معذور افراد معاشرے کا ایک قابلِ احترام اور اہم حصہ ہیں، جنہیں سہارا دینے اور بااختیار بنانے کی اجتماعی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بات انہوں نے لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کی جانب سے معذور افراد کی بحالی کے لیے منعقدہ سالانہ مفت کیمپ کے دورے کے دوران گفتگو میں کہی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستحق افراد کی بحالی اور معاونت کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
لودھراں پائلٹ پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالصبور نے جہانگیر خان ترین کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک 9 فری کیمپس منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں ملک بھر سے آنے والے 1327 مستحق و معذور افراد کو مفت مصنوعی اعضاء لگائے جا چکے ہیں۔
دورے کے دوران جہانگیر ترین نے مستحق معذور افراد سے ملاقات بھی کی۔ مفت مصنوعی اعضاء کی فراہمی پر معذور افراد، جن میں بچے، خواتین اور مرد حضرات شامل تھے، نے جہانگیر خان ترین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس اقدام کو اپنی زندگی میں نئی امید، خود اعتمادی اور فعال کردار کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ مصنوعی اعضاء کی فراہمی نہ صرف ان کی جسمانی مشکلات میں کمی کا باعث بن رہی ہے بلکہ انہیں سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتر طور پر حصہ لینے کے قابل بھی بنا رہی ہے۔
Trending
- پنجاب سے ملحق چیک پوسٹوں سے پختونخوا کو گندم اور آٹا نہیں دیا جارہا، گورنر کے پی
- سابق ٹیسٹ کپتان یونس خان نے پی سی بی کیساتھ کام کرنے کیلیے رضامندی ظاہر کردی
- حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان رئیل اسٹیٹ سیکٹر کیلئے ریلیف پیکیج پر اتفاق رائے نہ ہوسکا
- سفارتی امور پر چینی صدر کے منتخب کلام” کی جلد اوّل اور جلد دوم کی اشاعت
- کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور بھارتی میڈیا کا مذموم عزائم کیلیے گٹھ جوڑ بے نقاب
- بنگلا دیشی کرکٹر ناہید رانا کو آسٹریلیا کیخلاف شاندار بولنگ مہنگی پڑگئی
- کرن تعبیر کی سرجری کامیاب، اسپتال سے صحتیابی سے متعلق آگاہ کردیا
- رواں مالی سال میں کئی شعبوں کے اہداف حاصل نہیں ہوئے،اقتصادی سروے آج جاری ہوگا
- سول و عسکری قیادت کی کامیاب سفارتکاری، پاکستان عالمی منظرنامے میں نمایاں
- پاکستان نے افغانستان کو شکست دیکر 74 سال بعد فٹبال کا انٹرنیشنل ٹورنامنٹ جیت لیا
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔