بیجنگ میں ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کا قیام عمل میں آیا ، اور پہلے بورڈ ممبران، سپروائزرز اور تنظیمی ذمہ داران کا انتخاب کیا گیا۔ یوں ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن نے باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ دنیا کی پہلی پیشہ ورانہ بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا مقصد ڈیٹا کی ترقی اور گورننس کے عمل کو فروغ دینا ہے، اور اس کا صدر دفتر بیجنگ میں قائم ہے۔
ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کے اہم امور میں سے ایک یہ ہے کہ مختلف ممالک میں ڈیٹا کی مختلف پالیسیوں کے چیلنجز سے نمٹا جائے اور صنعت کے اتفاق رائے، معیارات کی تجویز اور بہترین عمل کو فروغ دیا جائے۔ تاحال ورلڈ ڈیٹا آرگنائزیشن کے 200 سے زائد ممبران ہیں، جس میں انٹرپرائزز، یونیورسٹیز اور تھنک ٹینکس، بین الاقوامی تنظیمیں اور مالیاتی ادارے وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں زراعت، صنعت، مالیات، صحت عامہ، عوامی خدمات، توانائی، تعلیم اور میڈیا سمیت 14 سیکٹرز شامل ہیں، اور یہ تنظیم دنیا کے 40 سے زائد ممالک کا احاطہ کرتی ہے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔