اسلام آباد:
امریکا ایران مذاکرات کی کوریج کیلیے 300 سے زائد غیرملکی صحافی پاکستان آئے،حکومت پاکستان کی جانب سے روایتی میزبانی کی گئی، مہمان صحافیوں کو بہترین سیکیورٹی اور سہولیات فراہم کیں۔
وزارت اطلاعات کے ذیلی ادارے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے مطابق کنونشن سینٹر میں میڈیا کیلیے ایک شاندار سہولت سینٹر بنایا گیا تھا جہاں پر ہرملک کے صحافیوں کیلیے جگہیں مختص کی گئیں۔
انھیں ورک اسٹیشن، انٹرنیٹ، پرنٹر، اسکینر فراہم کیے گئے، حتی کہ اگر کوئی صحافی ویڈیو کیمرہ نہیں لایا تھا تو یہاں پر وزارت اطلاعات نے کیمرہ اور کیمرہ مین کی سہولیات بھی دے رکھیں تھیں کہ اپنا بیپر یا ویڈیو ریکارڈ کروائیں اور وزارت اطلاعات کے ملازمین ان ویڈیوز کو وٹس ایپ پر یا بیرون ملک دفتر بھیج سکتے تھے۔
اس کے علاوہ کنونشن سنٹر میں چائے کافی، سنیکس ، منرل واٹر چوبیس گھنٹے بلامعاوضہ مہیا کئے گئے جبکہ کھانے کا انتظام بھی تھا، کنونشن سنٹر میں موجود غیرملکی و ملکی صحافیوں سب کو کھانا دیا گیا۔
سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کنونشن سنٹر کے اندر کھانا دینا اس ایونٹ کی سیکورٹی کیلئے ناگزیر تھا کیونکہ کنونشن سنٹر کو آنے والے تمام سڑکیں بند کی گئی تھیں۔
کنونشن سنٹر کے نزدیک صرف ایک ہوٹل ہے جس کو جانیوالی تمام سڑکیں بھی بند تھیں اور غیرملکیوں سمیت ملکی صحافیوں کو بھی خصوصی شٹل سروس کے ذریعے کنونشن سنٹر لایا جارہا تھا تو اگر حکومت کنونشن سنٹر میں کھانا نہ دیتی تو یہاں موجود کہاں سے کھانا کھاتے کیونکہ اپنی گاڑیاں لانے کی اجازت نہیں تھی اورپیدل آنا جانا غیرملکی صحافیوں کیلئے شاید ناممکن ہوتا۔
دوسرا اگر یہ لوگ باہر کھانا کھانے جاتے تو شاید سیکورٹی کے مسائل بھی ہوتے، صحافیوں کو ایک چھت تلے کھانے سمیت تمام سہولیات دے کر وزارت اطلاعات نے بہت سے سیکورٹی خدشات سے بچایا۔
ان انتظامات سے غیرملکی صحافی جن میں سے اکثر پہلی مرتبہ پاکستان آئے تھے پاکستان کا امیج بہتر ہوا، صحافیوں نے اسے خوب سراہا، پاکستانی صحافیوں نے بھی غیرملکی مہمانوں کے ساتھ مہمانوں جیسا ہی سلوک کیا اور بڑے اچھے انداز میں یہاں ملکی و غیرملکی میڈیا نمائندگان اپنے پیشہ وارانہ امور سرانجام دیتے نظر آئے۔
ماہرین کے مطابق کنونشن سنٹر میں کھانے پر تنقید کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو حکومت نے اس سنٹر میں مدعو نہیں کیا اور جو بغیر دعوت کے آنا چاہتے تھے ان کو آنے کی اجازت نہیں دی، اس لئے یہ لوگ اپنا غصہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکال رہے ہیں۔
پی این پی