اسلام آباد: پاکستان میں روس کے سفیر البرٹ پی کھوریف نے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی سے ملاقات کی۔
دونوں فریقین نے روس اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعاون کی ترقی سے متعلق موجودہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
سفیر کھوریف نے ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان انسانی و ثقافتی تعاون میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت کو سراہا اور روسی ثقافتی اقدامات کے نفاذ میں پاکستان کے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی جانب سے فراہم کی جانے والی حمایت کی تعریف کی۔
انہوں نے وزیر کو نئے منصوبوں سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد روس اور پاکستان کے عوام کے درمیان مکالمے کو مزید فروغ دینا ہے۔
اس موقع پر وزیر کھچی نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی طویل تاریخ کے دوران روسی ثقافت اور روایات کو پاکستانی عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق پاکستان دوست ممالک کو اپنی قومی ثقافت اور روایات کی نمائش کے لیے تقریبات منعقد کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
اس تناظر میں، دونوں فریقین نے آئندہ سال باہمی روس-پاکستان ثقافتی ہفتے منعقد کرنے پر غور کرنے پر اتفاق کیا، جن میں دونوں ممالک کے موسیقاروں، فنکاروں، ادیبوں اور دیگر تخلیقی شخصیات کی شرکت شامل ہوگی۔
Trending
- ڈیزل مزید مہنگا، پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان
- وزیراعلیٰ کے پی کی ایکسپریس میڈیا گروپ کے سی ای او سے ملاقات، اخبارات کے بقایاجات ادا کرنے کی یقین دہانی
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔