ایران کی جانب سے امریکا کو بھیجے گئے مجوزہ امن منصوبے کی نئی تفصیلات سامنے آگئیں
تہران(پی این پی)ایران کی جانب سے امریکا کو بھیجے گئے مجوزہ امن منصوبے کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں ،
جس میں 30دن میںجنگ کے مکمل خاتمے میں تبدیل کرنے، عدم جارحیت کا عہد، آبنائے ہرمز کوبتدریج کھولنا، ایران کو محدود یورینیم افزودگی کی اجازت، پابندیاں ختم کرنے اور خطے میں مشترکہ سیکیورٹی نظام کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق ایران کے مجوزہ منصوبے میں3اہم مراحل شامل ہیں، جنگ بندی کو کم از کم 30دنوں میں جنگ کے مکمل خاتمے میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق امن منصوبے میں عدم جارحیت کا عہد شامل ہے، اسرائیل بھی اس کا حصہ ہوگا، جنگ دوبارہ شروع نہ کرنے اور مشرقِ وسطی میں لڑائی کا خاتمہ یقینی بنانے کی بھی تجویز ہے۔عرب میڈیا کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز کو بتدریج کھولنا اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کو سمندری بارودی سرنگوں کی صفائی کی ذمے داری سنبھالنا بھی تجاویز میں شامل ہے، ایران کی جانب سے دوسرے مرحلے میں ایران کو مقررہ وقت کے بعد یورینیم افزودگی کی اجازت کی تجویز بھی شامل ہے۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایران کو زیرو اسٹوریج اصول کے تحت 3.6فیصد یورینیم افزودگی کی اجازت کی تجویز بھی دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق منصوبے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں پر حملہ نہ کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، اس کے بدلے میں ایران بھی حملے کرنے سے باز رہے گا۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق منصوبے میں ایران کے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنے یا تنصیبات کو تباہ کرنے کو مسترد کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران پرپابندیاں ختم کرنے، منجمد فنڈز کو مقررہ مدت کے مطابق مرحلہ وار جاری کرنا بھی تجاویز میں شامل ہے۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق تیسرے مرحلے میں ایران کی عرب اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مکالمہ شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، مکالمے کے ذریعے مشرقِ وسطی پر مشتمل ایک مشترکہ سیکیورٹی نظام قائم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
پی این پی
Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.