News Views Events
Apna Watan

علی ظفر ہتکِ عزت کیس، میشا شفیع کو نظرثانی اپیل میں جزوی ریلیف مل گیا

0

لاہور ہائیکورٹ میں گلوکار علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر ہتکِ عزت دعوے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عدالت نے میشا شفیع کی اپیل پر سیشن کورٹ کے 50 لاکھ روپے ہرجانے کے فیصلے کو مشروط طور پر معطل کر دیا۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے میشا شفیع کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ اپیل کے حتمی فیصلے تک جرمانے کی رقم فوری طور پر نافذ نہیں ہوگی، تاہم میشا شفیع کو جرمانے کی نصف رقم عدالت میں جمع کروانا ہوگی جبکہ باقی رقم کے لیے شیورٹی فراہم کرنا لازم ہوگا۔

سماعت کے دوران عدالت نے میشا شفیع کی جانب سے مکمل ٹرائل کورٹ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ نچلی عدالت کی جانب سے دوبارہ جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی کو بغیر ثبوت ایسے سنگین الزامات دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی عدالت میں پیش ہوئے، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن کورٹ نے حقائق کا مکمل اور درست جائزہ نہیں لیا۔ اپیل میں کہا گیا کہ اگر میشا شفیع اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکیں تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ علی ظفر خود کو مکمل طور پر بری الذمہ ثابت کر چکے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اپنایا کہ میشا شفیع نے اسی معاملے پر صوبائی محتسب سے بھی رجوع کیا تھا، جبکہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ابھی زیر التوا ہے، لہٰذا سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے سے قبل ہتکِ عزت دعوے کو مکمل طور پر ڈگری نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

عدالت نے علی ظفر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔
واضح رہے کہ سیشن کورٹ نے علی ظفر کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ وہ اپنے جنسی ہراسانی کے الزامات عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہیں۔ اس فیصلے کے بعد یہ مقدمہ شوبز انڈسٹری کے اہم ترین قانونی تنازعات میں شامل ہو چکا ہے۔
 

پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.