News Views Events
Apna Watan

قابل قدر پروفیسرز گزر بسر کے لیے جدوجہد پر مجبور

0


اسلام آباد:

پاکستان کو جلد ہی سرکاری یونیورسٹیوں میں انسانی وسائل کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ قابل قدر پروفیسرز بھی گزر بسر کیلئے جدوجہد پر مجبور ہو رہے ہیں۔ 

اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین اور فیکلٹی ممبران 2021 سے تنخواہوں کے منجمد ہونے اور ٹیکس کے بوجھ میں 81 فیصد اضافے کے باعث ملازمتیں چھوڑنے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

ٹینر ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت بھرتی کیے گئے ان اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین اور پروفیسرز کی تنخواہوں میں آخری بار 2021 میں اضافہ کیا گیا تھا۔

وزارتِ خزانہ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو جمع کرائی گئی تفصیلات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ٹی ٹی ایس کے تحت آخری بھرتی 2020 میں کی گئی تھی۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے منگل کو نمائندوں سے ملاقات بھی کی لیکن عارضی ریلیف کے وعدے کے علاوہ کسی حتمی حل پر اتفاق نہیں ہو سکا۔  

ان پی ایچ ڈی محققین کی تحقیقی اشاعتوں کی بدولت ملک کو تعلیمی منصوبوں کے لیے غیر ملکی گرانٹس مل رہی ہیں۔

وزارتِ خزانہ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو دی گئی بریفنگ کے مطابق  ٹی ٹی ایس کیٹیگری کے لیے قیمتوں میں 87 فیصد اضافہ ہوا اور ٹیکس کا بوجھ 81 فیصد بڑھ گیا، لیکن ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ 

اس کے مقابلے میں سرکاری پے سکیلز پر بھرتی ہونے والی فیکلٹی کی تنخواہوں میں 71 فیصد اضافہ ہوا۔ بتایا گیا کہ فیکلٹی کے تقریباً 4,000 ارکان ایسے ہیں جنہیں گزشتہ پانچ سالوں سے تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ملا۔

احسن اقبال ٹاسک فورس نے سفارش کی تھی کہ ٹی ٹی ایس تنخواہ کے ڈھانچے کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس میں لاگو ہونے والے بیسک پے سکیل فریم ورک کے برابر لایا جائے۔ لیکن ان سفارشات پر کبھی عمل درآمد نہیں ہوا۔



پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.