بیجنگ :یوم مئی کی تعطیلات کے دوران چینی صارفین کی منڈی نے ایک بار پھر اپنی مضبوطی، لچک اور بھرپور سرگرمیوں کا مظاہرہ کیا۔ہفتہ کے روز چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چین کی وزارتِ ثقافت اور سیاحت کے ڈیٹا سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، تعطیلات کے دوران اندرونِ ملک سیاحت کے 32 کروڑ 50 لاکھ ٹرپس ریکارڈ کئے گئے جو گزشتہ سال کی نسبت 3.6 فیصد زیادہ ہیں ، جبکہ سیاحت پر مجموعی اخراجات 185 ارب 492 ملین یوآن تک پہنچ گئے، جو گزشتہ سال کی نسبت 2.9 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صر ف "رواں چین” کی ایک متحرک تصویر پیش کرتے ہیں بلکہ چینی معیشت کی اندرونی قوت کے مسلسل فروغ اور ترقیاتی ڈھانچے کی بہتری کی بھی تصدیق کرتے ہیں۔ثقافتی اور سیاحتی صنعت "کھانے، رہائش ، سفر، سیاحت، خریداری اور تفریح” جیسے مکمل معاشی سلسلے کا احاطہ کرتی ہے، جو براہ راست کھانے پینے، ہوٹلنگ اور ٹرانسپورٹ سمیت متعلقہ شعبوں کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ صنعت تجارت ، کھیل، تعلیم اور صحت و تندرستی جیسے شعبوں کے ساتھ بھی گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے ، جس کے باعث صارفین کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔یومِ مئی کی تعطیلات کے دوران مختلف نوعیت کی سیاحتی سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ کچھ لوگ پھولوں کی خوشبو کے تعاقب میں سفر پر نکلے، جہاں لویانگ کے مشہور پیونی پھول اور وویوان کے سرسوں کے کھیتوں جیسے موسمی مناظر نے بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کیا، جس سے مقامی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے کاروبار کو بھی فروغ ملا۔کچھ افراد موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کی کشش میں مختلف شہروں کا رخ کرتے رہے، جہاں روایتی ڈراما اور جدید پاپ موسیقی کے امتزاج نے مختلف ذوق رکھنے والے افراد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔اسی طرح فلمی سیاحت کا رجحان بھی نمایاں رہا۔ لوگ ہوائی جہازوں، ہائی اسپیڈ ٹرین اور شاپنگ مالز میں فلمیں دیکھنے کے ساتھ ساتھ فلموں میں دکھائے گئے دلکش مقامات کی سیر سے بھی محظوظ ہوئے۔یومِ مئی کی تعطیلات کے دوران فلمی باکس آفس کی آمدنی 758 ملین یوآن رہی، جبکہ رواں سال چین کی فلمی صنعت کی مجموعی مالیت 210 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے۔ مصنوعات کی خریداری سے تجربات کے حصول تک صارفین کی ترجیحات میں آنے والی یہ تبدیلی دراصل معاشی ڈھانچے میں بہتری کی عکاس ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب کاؤنٹی سطح کی سیاحت ایک نئے رجحان کے طور پر ابھر رہی ہے۔ سیاح اب صرف بڑے شہروں کے مشہور مقامات تک محدود نہیں بلکہ صوبہ فوجیان کے پھنگ تھان اور صوبہ ژے جیانگ کے آنجی جیسے علاقوں کا رخ بھی کر رہے ہیں تاکہ وہاں کے متنوع طرزِ زندگی اور مقامی ثقافت کا تجربہ کر سکیں۔ کاؤنٹیز، دیہات اور شہروں کو جوڑتی ہیں، اور ثقافتی و سیاحتی صنعت کے ذریعے دیہی ترقی، مقامی روزگار اور متوازن علاقائی ترقی کو فروغ دے رہی ہیں، جبکہ صارفین کی اندرونی قوت کو بھی مزید متحرک کر رہی ہیں۔تعطیلات کی یہ رونق صرف اندرونی طلب تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاحتی منڈی کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ قومی امیگریشن انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق یومِ مئی کی تعطیلات کے دوران 11.279 ملین چینی اور غیر ملکی افراد کی آمدورفت ریکارڈ کی گئی، جبکہ یومیہ اوسط 22 لاکھ 56 ہزار رہی۔ بڑی تعداد میں بیرونِ ملک سفر کرنے والے چینی سیاحوں نے عالمی سیاحت کی بحالی میں نئی توانائی پیدا کی اور مختلف ممالک میں سیاحتی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، تعطیلات کے دوران چین آنے والے غیر ملکی دوستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جو چینی تہواروں کے ماحول اور جدید سہولیات کا تجربہ کر رہے ہیں، جس کے باعث عالمی سیاحتی صنعت میں چین کا کردار مزید نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔تفریحی اور تعطیلاتی معیشت کی یہ خوشحالی مؤثر پالیسی سازی، رہنمائی اور مضبوط معاشی بنیادوں کا نتیجہ ہے۔ تعطیلات سے قبل، چین نے واضع کیاتھا کہ "خدمات کے شعبے کی صلاحیت اور معیار میں بہتری کے اقدامات کو مزید گہرائی سے نافذ کیا جائے گا، جبکہ ضروریات کے مطابق اور ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات کے شعبے کومزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا،جس سے صارفین کی ترقی اور مارکیٹ کی بہتری کے لئے نئی پالیسی قوت فراہم ہوئی ۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں چین کی مجموعی قومی پیداوار 334 کھرب 19 ارب یوآن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.0 فیصد زیادہ ہے۔ اسی عرصے میں شہریوں کی فی کس قابل خرچ آمدنی 12 ہزار 782یوآن تھی، جو حقیقی معنوں میں 4.0 فیصد اضافہ ہے۔رواں سال معیشت کی مثبت شروعات نے صارفین کے اعتماد کو مضبوط بنیاد فراہم کی ، جبکہ شہریوں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ صارفین کی منڈی کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے مستقل اندرونی قوت فراہم کررہا ہے۔عالمی معیشت کو درپیش غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین کی سیاحتی و تفریحی معیشت دنیا کے لیے استحکام اور نئے مواقع کا پیغام دے رہی ہے ۔خدمات کے شعبے میں ادارہ جاتی کھلے پن کے فروغ کے ساتھ، ثقافتی اور سیاحتی شعبوں میں رسائی کی پابندیاں مسلسل کم کی جا رہی ہیں، جس سے بین الاقوامی سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے راستے مزید سے ہموار ہو رہے ہیں۔ ادائیگی کے آسان نظام، ویزا پالیسی میں بہتری اور ڈیوٹی فری سروسز جیسی پالیسیاں مسلسل نافذ کی جا رہی ہیں، جس سے غیر ملکی سیاحوں کے تجربات بہتر ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیوں کے لیے چین میں ترقی کے مواقع بھی وسیع ہو رہے ہیں۔ ایک زیادہ متحرک، کھلا اور چینی ثقافتی و سیاحتی بازار نہ صرف عوام کی بہتر زندگی کو مزید فروغ دے گا ، بلکہ عالمی سیاحت کی بحالی اور معاشی ترقی میں بھی پائیدار چینی قوت کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
Trending
- نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس، وزیر اعظم بھی شریک
- چین میں یومِ مئی کی تعطیلات کے دوران مختلف نوعیت کی سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ
- چینی صدر کے خصوصی ایلچی نے کوسٹا ریکا میں صدارتی اقتدار کی منتقلی کی تقریب میں شرکت کی
- چینی عوام نئے تجربات اور کوششوں میں جرات مند ہیں، نوبل انعام یافتہ کیمیادان
- دنیا بے یقینی اور انتشار جیسے چیلنجز سے دوچار ہے، چینی وزیر خارجہ
- بشریٰ بی بی سے ملاقات اور ذاتی معالج کی رسائی کیس؛ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالت طلب
- ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے عالمی دن پر وزیر اعظم کا اہم پیغام
- اوورسیز پاکستانیوں کی حقیقی آواز بنیں گے، مسائل جلد حل ہوں گے: چودھری شافع حسین
- ملک بھر کی جامعات میں منشیات کے کیسز میں ہوشربا اضافہ
- ساڑھے 3 برس میں اوپن مارکیٹ سے27 ارب ڈالر خریدے، جمیل احمد