News Views Events
Apna Watan

ورلڈ انٹیلی جنس ایکسپو 2026: مصنوعی ذہانت کے عالمی منظرنامے کا نیا باب

0

 

اعتصام الحق

 

 

چین کے شہر تھیانجن میں منعقد ہونے والی  ورلڈ انٹیلی جنس ایکسپو 2026 محض ایک ٹیکنالوجی نمائش نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی معیشت، صنعت اور سیاست کا ایک واضح اشارہ بھی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تیزی سے اے آئی  کی جانب  بڑھ رہی ہے، یہ ایکسپو اس بات کا مظہر ہے کہ آنے والے برسوں میں عالمی طاقت، اقتصادی ترقی اور صنعتی برتری کا دارومدار بڑی حد تک اے آئی پر ہوگا۔

 

اس چار روزہ بین الاقوامی ایونٹ میں 700 سے زائد نمائش کنندگان کی شرکت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ اے آئی  اب صرف سائنسی تجربہ گاہوں یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ معیشت، صنعت، تجارت، نقل و حمل، طب، زراعت اور روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ایکسپو کا موضوع  "ذہانت: وسیع ترقیاتی وسعت، پائیدار نمو کا محرک ” دراصل اس نئی عالمی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس میں ٹیکنالوجی کو صرف سہولت نہیں بلکہ معاشی استحکام اور قومی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

 

تھیانجن میں قائم 130,000 مربع میٹر پر پھیلے نمائشی زونز میں  ایمبوڈیڈ اے آئی ، ذہین گاڑیاں،  لو ایلٹی ٹیوڈ اکانومی ،  کمرشل  اسپیس ٹیکنالوجی اور  ناڈسٹریل اے آئی  جیسے شعبوں کو خاص اہمیت دی گئی۔ یہ تمام شعبے مستقبل کی معیشت کی بنیاد تصور کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر "اے آئی پلس  مینوفیکچرنگ ” کا تصور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ چین روایتی صنعتوں کو جدید ذہین نظاموں سے جوڑ کر اپنی صنعتی طاقت کو نئی سطح پر لے جانا چاہتا ہے۔

 

گزشتہ چند برسوں میں دنیا نے اے آئی  کے میدان میں ایک خاموش مگر شدید عالمی مقابلہ دیکھا ہے۔ امریکہ، چین، یورپی یونین، جاپان اور خلیجی ممالک سبھی اس ٹیکنالوجی  کے حصول میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔چین بڑے پیمانے پر صنعتی اطلاق، ڈیٹا اور اسمارٹ انفراسٹرکچر کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تھیانجن ایکسپو دراصل چین کے اسی اعتماد کا اظہار ہے کہ وہ اے آئی  کی عالمی دوڑ میں محض شریک نہیں بلکہ ایک قائدانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

 

چین کی حکومتی قیادت کی جانب سے اس ایکسپو میں دیے گئے بیانات بھی اس حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ نائب وزیر  برائے صنعت و اطلاعاتی ٹیکنالوجی  جی شین نے اے آئی صنعت کی "اعلیٰ معیار کی ترقی ” پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ چین اب صرف ٹیکنالوجی درآمد کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ وہ اختراعی صلاحیتوں اور صنعتی ماحول کی تشکیل پر توجہ دے رہا ہے۔ اسی طرح نیشنل ڈیٹا ایڈمنسٹریشن کے سربراہ لیو لی ہونگ کا یہ کہنا کہ "اعلیٰ معیار کے ڈیٹاسیٹ ” جدید مینوفیکچرنگ کا انجن ہیں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا تیل سے بھی زیادہ قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے۔

 

بین الاقوامی منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو اے آئی  کے ذریعے جغرافیائی سیاست کی نئی شکل ہے۔ دنیا بھر سے اے آئی  کے اخلاقی استعمال، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا پر کنٹرول کے حوالے سے تحفظات سامنے آ رہے ہیں  اور    چین اے آئی  کو ترقی، صنعتی توسیع اور سماجی نظم و نسق کے ایک مؤثر آلے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین اب ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اے آئی تعاون کو بڑھا رہا ہے تاکہ وہ ایک تکنیکی شراکت داری کا نظام تشکیل دے سکے۔

 

اس ایکسپو میں متحدہ عرب امارات اور قازقستان جیسے ممالک کی دلچسپی اس عالمی رجحان کو مزید واضح کرتی ہے۔ خلیجی ممالک تیل کے بعد کی معیشت کی تیاری میں اے آئی  کو مرکزی حیثیت دے رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات پہلے ہی اسمارٹ گورننس، ڈیجیٹل معیشت اور خودکار نظاموں پر بڑی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ اسی طرح قازقستان جیسے وسطی ایشیائی ممالک چین کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کو اپنی اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں۔

تاہم اے آئی  کی اس برق رفتار ترقی کے ساتھ کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ دنیا بھر میں روزگار کے مستقبل، ڈیٹا کی رازداری، انسانی آزادی، خودکار ہتھیاروں اور سماجی عدم مساوات کے بارے میں بحث جاری ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اے آئی مستقبل میں لاکھوں روایتی ملازمتوں کو متاثر کر سکتی ہے  ، جبکہ دوسری جانب  ماہرین اسے نئے معاشی مواقعوں  اور جدید پیشوں کی تخلیق کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اے آئی کے میدان میں عالمی تعاون اور مشترکہ ضابطوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

 

ورلڈ انٹیلی جنس ایکسپو 2026 اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ صرف ٹیکنالوجی کی نمائش نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان مستقبل کی اقتصادی اور سائنسی قیادت کی ایک جھلک بھی پیش کرتی  ہے۔ چین اس پلیٹ فارم کے ذریعے یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ اے آئی کو صرف قومی ترقی نہیں بلکہ بین الاقوامی تعاون کے ایک مشترکہ وسیلے کے طور پر دیکھتا ہے۔

 

تھیانجن میں منعقد ہونے والی  یہ ایکسپو ایک ایسے دور کی علامت ہے جہاں مصنوعی ذہانت انسانی زندگی، عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی شکل دے رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ ٹیکنالوجی دنیا کے ترقیاتی نقشے کو کس حد تک بدلتی ہے، اس کا اندازہ شاید ابھی مکمل طور پر ممکن نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ اے آئی  اب مستقبل کا تصور نہیں بلکہ موجودہ دنیا کی سب سے طاقتور حقیقت بن چکی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.