News Views Events

 چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو 2026

0

 

اعتصام الحق

 

چین کی معیشت کے  خدوخال کو سمجھنے کے لیے صرف  بڑے بڑے اعداد و شمار ہی کافی نہیں ہوتے  بلکہ بعض اوقات ایک نمائش، ایک عام سی چیز، یا روزمرہ کی کوئی عادت بھی اس  کی کہانی بیان کر دیتی ہے۔ چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پراڈکٹ ایکسپو 2026   بھی کچھ ایسی ہی تصویر پیش کرتی  ہے، جہاں بظاہر مصنوعات کی نمائش ہے، مگر درحقیقت ایک نئے معاشی رجحان کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ چھٹی چائنا انٹرنیشنل کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو 13 سے 18 اپریل تک صوبہ ہائی نان میں منعقد ہورہی ہے۔  سے شروع ہونے والی اس ایکسپو کے اب تک پانچ ایڈیشنز کامیابی سے منعقد ہو چکے ہیں جس نے کھپت کو بڑھانے، اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو وسعت دینے، اور ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کی تعمیر میں معاونت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سال کی ایکسپو کا تھیم ہے "کھلے پن کے ذریعے عالمی کھپت کو رہنمائی، جدت کے ذریعے بہتر زندگی کو تحریک”۔ایکسپو میں نمائشوں، نئی مصنوعات کی رونمائی، اور طلب و رسد کو ملانے والی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔اس سال کی کنزیومر پراڈکٹس ایکسپو میں دنیا بھر سے معروف کنزیومر برانڈز کو اکٹھا کیا گیا ہے اور بین الاقوامی برانڈز گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔

 

اس سال اس ایکسپو کی خاص بات صرف یہ نہیں کہ دنیا بھر سے ہزاروں برانڈز شریک ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ یہاں  "گرین اکانومی ” کسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک حقیقت کے طور پر سامنے آئی۔ جیسے ہی آپ نمائش کے ہال میں داخل ہوتے ہیں، بانس سے بنی اشیاء فوراً توجہ حاصل کرتی ہیں۔ یہ وہ روایتی بانس نہیں جسے ہم دیہی زندگی سے جوڑتے ہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ، خوبصورت اور عالمی معیار کی مصنوعات ہیں۔

یہ رجحان دراصل International Bamboo and Rattan Organization کی جانب سے پیش کیے گئے “پلاسٹک کے متبادل کے طور پر بانس” جیسے اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اب ماحول دوست مصنوعات کو صرف فروغ نہیں دے رہا بلکہ انہیں بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنا رہا ہے۔ یہاں ماحول دوستی اور کاروبار ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی طاقت بن چکے ہیں۔

اسی طرح لاجسٹکس کے شعبے میں بھی ایک خاموش انقلاب جاری ہے۔ ایس ایف ایکسپریس  جیسے ادارے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف سامان کی ترسیل کو تیز کر رہے ہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر اور ماحول دوست بھی بنا رہے ہیں۔ یہ ڈرونز اب کسی تجربے کا حصہ نہیں بلکہ عملی طور پر کام کر رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ چین ٹیکنالوجی کو روزمرہ معیشت کا حصہ بنا چکا ہے۔

یہ تمام تبدیلیاں ہائینان فری ٹریڈ پورٹ  کے تناظر میں اور بھی اہم ہو جاتی ہیں، جہاں نئی پالیسیوں اور کھلے معاشی ماڈلز کو آزمایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سال کی یہ نمائش ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ کے  جزیرے بھر میں  خصوصی کسٹمز  آپریشنز کے  باضابطہ آغاز  کے بعد پہلی نمائش ہے ۔  یہ علاقہ ایک طرح سے چین کی معاشی اصلاحات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے، جہاں عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور جدید کاروباری ماڈلز کو نئی شکل دی جا رہی ہے۔

اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو چین کی معیشت اب صرف زیادہ پیداوار یا سستی مصنوعات تک محدود نہیں رہی۔ اب توجہ معیار، جدت اور پائیداری پر ہے۔ بانس کی ایک ٹوکری، ڈرون کے ذریعے پہنچایا گیا پارسل، یا ماحول دوست کافی کا ایک کپ  ، یہ سب چھوٹی چھوٹی مثالیں ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک بڑی تبدیلی کارفرما ہے۔

یہی وہ تبدیلی ہے جسے آج کل “نئی معیاری پیداواری قوتیں” کہا جا رہا ہے۔ اور شاید اس کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ صرف پالیسیوں میں نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی میں نظر آ رہی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.