بیجنگ :(چائنا ڈیکس) ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں حال ہی میں ایبولا وائرس کی نئی لہر کا آغاز ہوا ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت اور بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لیے افریقہ کے مراکز نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ وبائی امراض کے انسداد کے لئے فعال طور پر افریقہ کی مدد کرے۔ پیر کے روز چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور افریقہ اچھے بھائی ہیں جو ہر دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا کی وبا کے پھیلاؤ پر چین کو گہری تشویش ہے اور وہ متاثرہ عوام کے دکھ درد کو محسوس کرتا ہے۔چین نے ہنگامی انسانی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور طبی ماہرین کی ٹیم کو طبی خدمات اور امداد فراہم کرنے کے لیے کانگو روانہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، چین افریقی یونین کمیشن کو امداد فراہم کرےگا اور بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لیے افریقہ کے مراکز کی کوششوں میں مدد دے گا۔ اگلے مرحلے میں چین ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو جیسے افریقی ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی ادارہ صحت، افریقی یونین اور دیگر تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطے کو برقرار رکھے گا، اور وبائی امراض کی صورتحال اور افریقی ممالک کی ضرورت کے مطابق اپنی صلاحیت پر مبنی مدد فراہم کرتا رہے گا۔
Trending
- آئی سی سی کا لارڈز اور قذافی اسٹیڈیم کی پچز سے متعلق اہم فیصلہ!
- ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی ایک اور ویڈیو وائرل، پولیس پر الزامات کی حقیقت سامنے آگئی
- پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی کمپنیوں کی مضبوط کارکردگی، سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم
- کراچی: گیس فراہمی کے اوقات پر عملدرآمد نہ ہونے سے شہری پریشان
- ایشین گیمز: چار ریسلرز پاکستان کی نمائندگی کریں گے
- ’’شاہ رخ بعد میں مل جاتے، مائیکل جیکسن سے ملنے کا موقع نہیں چھوڑ سکتی تھی‘‘، فرح خان کا دلچسپ اعتراف
- پاکستان میں معاشی استحکام، سرمایہ کاری اور برآمدات میں نمایاں بہتری
- ٹائر پھٹنے سے کار درخت سے جا ٹکرائی، نجی ٹیکسی سروس کا ڈرائیور جاں بحق، مسافر زخمی
- بنگلادیش نے 21 سال بعد آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے میچ میں فتح حاصل کرلی
- سنیتا مارشل کی بھولنے کی عادت پر گھریلو معاملات خراب کرنے کا باعث بن جاتی ہے، حسن احمد کا انکشاف
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔