News Views Events
Apna Watan

آمدہ بجٹ میں تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے، نجی تعلیمی اداروں کے مسائل حل کیے جائیں، ڈاکٹر ابرار حسین ملک

0

 

آل پاکستان پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو قومی ترقی کی بنیاد تصور کرتے ہوئے اسے اولین ترجیح دی جائے اور تعلیم کے فروغ کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل مختص کیے جائیں۔ ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز معیاری تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کی ترقی میں پوشیدہ ہے، پاکستان میں تعلیم کا شعبہ طویل عرصے سے مالی مشکلات، پالیسیوں کے عدم تسلسل اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے اپنے اہم بیان میں کہا کہ ملک بھر میں نجی تعلیمی ادارے لاکھوں طلبہ و طالبات کو تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو روزگار بھی مہیا کر رہے ہیں، تاہم موجودہ معاشی حالات میں ان اداروں کے لیے اپنے انتظامی اور تعلیمی اخراجات پورے کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔مہنگائی میں مسلسل اضافے، بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی بلوں کے بڑھتے ہوئے نرخ اور مختلف سرکاری ٹیکسوں کا بوجھ، رجسٹریشن اور این او سی کے پیچیدہ مراحل، سکیورٹی اخراجات اور دیگر ریگولیٹری تقاضوں نے نجی تعلیمی اداروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئندہ بجٹ میں تعلیم کے لیے جی ڈی پی کا زیادہ حصہ مختص کرے،جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لرننگ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، تحقیقی سرگرمیوں اور تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو ٹیکسوں میں خصوصی رعایت دی جائے، بجلی اور گیس کے نرخوں میں تعلیمی اداروں کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرایا جائے، کم شرح سود پر قرضوں کی سہولت دی جائے اور رجسٹریشن و ریگولیٹری نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے۔ ڈاکٹر ابرار حسین ملک نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں پر غیر ضروری مالی اور انتظامی بوجھ کم کیے بغیر معیاری تعلیم کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت تعلیمی پالیسی سازی اور بجٹ سازی کے عمل میں نجی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کرے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق مؤثر اور قابلِ عمل فیصلے کیے جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ دراصل پاکستان کے روشن مستقبل، معاشی استحکام اور قومی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔ لہٰذا آنے والے بجٹ میں ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جو طلبہ، اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے حقیقی سہولت، استحکام اور ترقی کا سبب بن سکیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.