انمول پنکی کی وائس ریکارڈنگ کیلئے پولیس کی درخواست پر وکیل سرکار کو نوٹس جاری
جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات سمیت دیگر مقدمات میں ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ کیلئے پولیس کی درخواست پر وکیل سرکار کو نوٹس جاری کردیے۔
پولیس نے ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد پنجاب بھینجے کےلیے عدالت سے رجوع کیا تھا، پولیس نے ڈیجیٹل شواہد پنجاب لیبارٹری بھیجنے کے لئے درخواست دائر کی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ملزمہ انمول پنکی کی جیل وائس ریکارڈنگ کرنے کی اجازت دی جائے، ڈیجیٹل شواہد کی فرانزک پنجاب لیبارٹری سے کرانے کا حکم دیا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، تفتیش کے دوران ملزمہ نے ریکارڈنگ اور میسجز اس کے ہونے سے انکار کیا ہے، ملزمہ کہتی ہے کہ وائس میسجز اور ریکارڈنگ میں اس کی آواز نہیں ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وائس ریکارڈنگ، وائس میسجز اور کال ریکارڈنگ سمیت ڈیجیٹل شواہد پنجاب لیبارٹری بھجوائے جائیں، تمام ڈیجیٹل شواہد کا پنجاب لیبارٹری سے فرانزک کرانے کا حکم دیا جائے، فرانزک رپورٹ سے ملزمہ کی آواز ہونے کی تصدیق ہو جائے گی۔
دریں اثنا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے پنکی کے سہولتکاروں کی درخواست ضمانت کا فیصلہ 10 جون تک موخر کردیا، تفتیشی افسر نے ملزمان کی واٹس ایپ چیٹ، ویڈیو چیٹ کی فرانزک رپورٹ جمع کرادی۔
ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عارف سیتائی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سہیل الرحمن اور ذیشان الرحمن انمول عرف پنکی کے سہولتکار ہیں، ملزم زیشان نے اپنی آمدنی 50 ہزار ظاہر کی، ملزم کے بینک اکاؤنٹس میں کروڑوں کی ٹرانزکشن ہوئی، ملزمان ضمانت کے مستحق نہیں ہیں۔
انمول عرف پنکی کیخلاف سٹی کورٹ میں قتل کیس کی بھی سماعت ہوئی، پولیس نے مقدمے کا عبوری چالان پیش کرنے کیلئے مہلت طلب کرلی، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عبوری چالان منظوری کیلئے اعلیٰ پولیس افسران کو ارسال کیا ہے جو منظوری ملتے ہی پیش کردیا جائے گا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے 9 جون تک مہلت دے دی۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کیخلاف لائنز ایریا کے رہائشی شیروز کی مدعیت میں بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔
دوسری جانب منشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کے لاہور میں موجود ایک جعلی سیلری اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینک میں جمع کرائے گئے کاغذات جعلی تھے، کوئی کمپنی موجود ہی نہیں ہے حیرت انگیز طور پر ایک عام آدمی جب بینک میں اکائونٹ کھلوانا چاہتا ہے تو اس سے بے انتہا سوال جواب اور دستاویزات مانگی جاتی ہیں مگر پنکی کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا، اس کا اکاؤنٹ غیر ملکی بینک کی نیو گارڈن لاہور برانچ میں تھا۔
رپورٹ کے مطابق 2019 میں اینٹی نارکوٹکس فورس میں درج مقدمہ نمبر 63/19 کی تفتیشی افسر سب انسپکٹر صوبیہ ارم نے یکم جولائی 2021کی اپنی رپورٹ میں یہ تحریر کیا تھا کہ پنکی کا لاہور کے علاقے چوبرجی میں ایک ملٹی نیشنل بینک میں سیلری اکائونٹ ہے جس میں اس کو ایک کمپنی کا ملازم ظاہر کیا گیا تھا، اس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی رہی اور جس وقت بینک نے اسٹیٹمنٹ دیا تو اس کے اکاؤنٹ میں 6 کڑور 39 لاکھ 88 ہزار 912 روپے کی ٹرانزیکشن موجود تھی اور ملزمہ مفرور قرار دی گئی تھی۔
جب تفتیشی افسر مذکورہ کمپنی کے ایڈریس 9/10 چھٹہ پلازہ، فرسٹ فلور، چوبرجی پر پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس نام کی کوئی کمپنی یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ بینک میں جمع کرائے گئے کاغذات جعلی تھے۔
پی این پی