کونمنگ (شِنہوا) 10ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش کے دوران چین کے جنوب مغربی نو جیانگ لیسو خودمختار پریفیکچر سے تعلق رکھنے والی ایک کافی کمپنی نے پاکستانی خریداروں کے ساتھ 10 لاکھ 20 ہزار یوآن (تقریباً 4 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے کافی بینز کی برآمد کا معاہدہ طے کیا جو دونوں ممالک کے درمیان کافی تجارت میں ایک نئی پیش رفت ہے۔نمائش کے کافی پویلین میں داخل ہوتے ہی حاضرین کو کافی کی خوشبودار اور بھرپور مہک سونگھنے کو ملتی ہے۔ نمائش کے علاقے میں چین، برونڈی، یوگنڈا، کینیا اور ایتھوپیا سمیت 8 ممالک اور خطوں کی مختلف اقسام کی کافی مصنوعات پیش کی گئی ہیں۔آن سائٹ پیشہ ورانہ کافی چکھنے کے سیشن میں پاکستانی خریداروں کے نمائندے محمد عمار نوید نے مختلف نمونوں کو چکھنے کے بعد نو جیانگ کافی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے مختلف نمونے آزمائے ہیں اور نو جیانگ کافی اعلیٰ معیار کی حامل ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نئی کافی پاکستان کی بڑھتی ہوئی کافی صارف مارکیٹ کے لئے ایک نیا انتخاب فراہم کرے گی۔یون نان چین کا سب سے بڑا کافی پیدا کرنے والا خطہ ہے جہاں ملک کی 98 فیصد سے زیادہ کافی کی کاشت اور پیداوار ہوتی ہے۔ نئے برآمدی آرڈر کے لئے کافی بینز یون نان کے شمال مغرب میں واقع نو جیانگ لیسو خودمختار پریفیکچر میں پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ علاقہ دنیا کے ان چند بلند عرض البلد والے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں 25 ڈگری شمالی عرض البلد سے اوپر کافی کی کاشت ہوتی ہے اور یہ بلند پہاڑوں، وافر بارش اور معدنیات سے بھرپور آتش فشانی مٹی کی وجہ سے بہترین قدرتی حالات رکھتا ہے۔ یہاں کا منفرد وادی نما موسم کافی کو خوشبو، تیز ترشی اور تہہ دار ذائقہ عطا کرتا ہے۔نو جیانگ پریفیکچر کی ایک کمپنی کی نمائندہ ژاؤ چھیان نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت تیار کی جانے والی کافی مصنوعات کمپنی اور یون نان زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کی گئی ہیں۔ کمپنی سخت معیار کے ساتھ پیداوار اور ترسیل کو یقینی بنائے گی۔ مستقبل میں وہ چین-جنوبی ایشیا نمائش کووسعت کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنوبی ایشیائی کاروباری شراکت داروں کے ساتھ روابط بڑھائے گی اور نو جیانگ کافی کے لئے بیرونی منڈیوں کو وسعت دے گی۔نو جیانگ پریفیکچر کے مقامی حکام نے دستخطی تقریب میں کہا کہ یہ برآمدی معاہدہ مقامی کافی صنعت کے لئے بین الاقوامی تجارت کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرے گا اور وہ کافی کی کاشت، پروسیسنگ اور برآمد پر مشتمل مکمل صنعتی سلسلے کو بہتر بناتے ہوئے مصنوعات کی معیاری سازی کو فروغ دیں گے۔
Trending
- امریکا نے ایرانی حکام کو نیویارک میں لگژری شاپنگ نہ کرنے کی وارننگ دے دی
- لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
- پی ایس ایکس 100 انڈیکس میں ایک ہزار 841 پوائنٹس کا اضافہ
- سونے کی فی تولہ قیمت 6900 روپے کا اضافہ ہوگیا
- محمد رضوان کی این سی سی آئی اے کیخلاف درخواست مسترد
- ملک میں کونسا پلانٹ کتنے روپے فی یونٹ بجلی پیدا کر رہا ہے؟ سینیٹ میں جمع تفصیلات سامنے آ گئیں
- آوارہ کتوں کیخلاف ایکشن نہ لینےپر مظاہرین نے انتظامیہ کے دفتر میں کتے چھوڑ دیے
- ایشین ہاکی چیمپئنز ٹرافی: میزبان بھارت نے نیوٹرل وینیو کی پاکستان کی درخواست مسترد کردی
- مہنگائی پر ہفتہ وار رپورٹ جاری، کونسی چیز سب سے زیادہ مہنگی ہوئی؟
- ایشین گیمز: پاکستان ویمنز ٹیم نے کوارٹر فائنل میں تھائی لینڈ کو شکست دے دی