بلوچستان اور پختونخوا کی سرحد پر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق، کئی زخمی
کوئٹہ:
بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔
کوئٹہ سے پشاور جانے والی ایک مسافر کوچ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع دانہ سر کے مقام پر گہری کھائی میں گرنے سے خوفناک حادثے کا شکار ہو گئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں اب تک 40 مسافر جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلع شیرانی کی انتظامیہ، ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئیں، جبکہ خیبر پختونخوا سے بھی ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے موقع پر پہنچ گئے ہیں۔
https://x.com/faseehijaz1/status/2072919639802187891?s=20
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کے مطابق زخمیوں کو ریسکیو کر کے قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں نکالنے اور منتقل کرنے کے لیے امدادی سرگرمیاں تاحال جاری ہیں۔
حادثے کے بعد شیرانی اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے تاکہ زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122، فرنٹیئر کور (ایف سی)، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔
دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو اہلکار مسلسل آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں
https://youtu.be/–NGFxE7g0g?si=w2daivgIqBtnRSbh
جاں بحق افراد کی شناخت، 13 کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے
ریسکیو 1122 کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے 7 ایمبولینسز، ایک ریسکیو وہیکل اور 30 سے زائد اہلکاروں نے امدادی آپریشن میں حصہ لیا، حادثے میں کم و بیش 40 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اب تک 32 افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔
شناخت شدہ 32 جاں بحق افراد میں سے 13 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، جاں بحق افراد میں 2 افراد کا تعلق ضلع خیبر، 2 کا تعلق پشاور سے ہے، جبکہ مزید 9 افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، حادثے میں خیبر پختونخوا کے 6 افراد زخمی ہوئے ہیں جن کے کوائف اور رہائشی اضلاع کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کا اظہار افسوس
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات کے لیے دعا کی ہے۔
انہوں نے افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور انہیں ہرممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے المناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی صوبائی حکومت نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ دونوں صوبوں کی ضلعی انتظامیہ، ایف سی، ریسکیو ادارے اور متعلقہ محکمے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جبکہ زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ انتظامی افسران کو حادثے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن معاونت کی جائے۔
سرفراز بگٹی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ حکومت بلوچستان اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
دریں اثنا چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بس حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ژوب کے دانہ سر علاقے میں پیش آنے والے حادثے میں قیمتی جانوں کا ضیاع باعثِ صدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ہمدردیاں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یقین ہے کہ متعلقہ حکام حادثے کے زخمیوں کے بہتر علاج معالجہ کو یقینی بنائیں گے۔ میں بس حادثے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔
پی این پی