News Views Events
Apna Watan

آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات میں 3 بیٹے سامنے آ گئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کے سابق سپریم لیڈر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوسرے روز ان کے تین صاحبزادوں نے عوامی طور پر شرکت کی، جبکہ موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں دکھائی نہیں دیے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کی نشر کردہ تصاویر میں مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای کو تہران کے مصلائے امام خمینی میں رکھے گئے تابوتوں کے عقب میں دعا کرتے اور سوگواروں کے ہمراہ موجود دیکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ممکنہ خطرات کے باعث انہیں عوامی اجتماعات سے دور رکھا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای اب تک کسی عوامی تقریب میں نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان کی جانب سے کوئی عوامی بیان سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کار اس خاموشی کو ان کی سیکیورٹی سے متعلق احتیاطی اقدامات کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنازے کی تقریبات میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔

شرکاء نے ایرانی پرچموں کے ساتھ سرخ پرچم بھی اٹھا رکھے تھے، جنہیں ایران میں انتقام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر مجمع کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے اور آیت اللہ علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کے مطالبات سنائی دیے۔ایرانی حکومت نے آنجہانی رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے پر مشتمل سوگ اور جنازے کی تقریبات کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری پروگرام کے مطابق ان کے جسدِ خاکی کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد ایران واپس لا کر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

پی این پی

Comments are closed, but trackbacks and pingbacks are open.