News Views Events
Apna Watan

چین کی معیشت کا مجموعی حجم 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر چکا ہے، چینی میڈیا

چین کی جی ڈی پی 69.5704 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، رپورٹ

0

بیجنگ :(چائنا ڈیسک )  چین کی جانب سے رواں سال کی پہلی ششماہی کی اقتصادی کارکردگی کے اعداد و شمار جاری کیے جانے کے بعد کئی غیر ملکی ذرائع ابلاغ نے اس پر توجہ مرکوز کی اور تبصرے کیے۔ ابتدائی حساب کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی جی ڈی پی 69.5704 ٹریلین یوآن تک پہنچ گئی، جو مستقل قیمتوں کے حساب سے گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ ہے۔

یہ شرح دنیا کی بڑی معیشتوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کے آغاز کے سال میں سالانہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے بلکہ عالمی اقتصادی ترقی میں اعتماد اور توانائی بھی پیدا کرتی ہے۔اس وقت چین کی معیشت کا مجموعی حجم 140 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر چکا ہے۔ اتنی بڑی اقتصادی بنیاد پر 4.7 فیصد کی شرح سے ترقی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ مزید یہ کہ گزشتہ سال کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں چین کی جی ڈی پی میں اضافی مالیت 3.6 ٹریلین یوآن رہی، جو گزشتہ پانچ برسوں کے اسی عرصے میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ طویل المدتی تناظر میں چینی معیشت کے مستحکم آپریشن اور ترقی کے معیار کو بہتر بنانے کی بنیادی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ چینی معیشت کا “استحکام” عالمی کاروباری اداروں کو ترقی کے لیے قابلِ اعتماد توقعات فراہم کرتا ہے۔درآمدات و برآمدات کو مثال کے طور پر لیا جائے تو رواں سال کی پہلی ششماہی میں جغرافیائی سیاسی تنازعات بار بار سامنے آئے اور عالمی تجارت کی رفتار سست رہی، تاہم چین کی اشیائے تجارت کی درآمدات و برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16.9 فیصد اضافہ ہوا۔ ان میں درآمدات کا حجم تاریخ میں پہلی بار اسی عرصے کے دوران 10 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس میں 22.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو چین کی مضبوط اقتصادی لچک کو ظاہر کرتا ہے۔ اس وقت چین 63 ممالک کے لیے زیرو ٹیرف پالیسی نافذ کر چکا ہے، جبکہ درآمدات کا حجم مسلسل 17 برسوں سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔آج چین کی معیشت کے نئے محرکات تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی آلات سازی کی صنعت اور ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ صنعت کی اضافی قدر میں اضافہ، بالترتیب تمام مقررہ سائز سے بالا صنعتی اداروں کی اضافی قدرکے مقابلے میں 3.9 اور 7.9 فیصد زیادہ رہا۔ چین کی جانب سے “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” پر عمل درآمد کے ساتھ معیشت کی اندرونی قوتِ محرکہ مزید مضبوط ہوگی۔ حقائق مسلسل ثابت کر رہے ہیں کہ چین عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ایک مستحکم ستون اور اہم محرک قوت ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.