بیجنگ :(چائنا ڈیسک ) چین کی وزارتِ قدرتی وسائل کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی سمندری معیشت نے مستحکم ترقی کا سلسلہ برقرار رکھا اور مضبوط ترقیاتی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ابتدائی تخمینوں کے مطابق پہلی ششماہی میں چین کی سمندری معیشت کا مجموعی حجم 5.5 ٹریلین یوان تک پہنچ گیا، جو سال بہ سالہ 5.1 فیصد زیادہ ہے۔ یہ شرح ملک کی جی ڈی پی کی رفتار سے بھی زیادہ رہی، جس سے قومی معیشت میں سمندری شعبے کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔پہلی ششماہی میں چین نے سمندری صنعتی تنصیبات ، سمندری حیاتیاتی ادویات اور دیگر جدید شعبوں پر توجہ مرکوز رکھی، جس کے نتیجے میں نئی ترقیاتی قوتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔اسی عرصے میں چین کو ملنے والے سمندری انجینئرنگ منصوبوں کے نئے آرڈرز کی مالیت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 121.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اس شعبے میں چین کا عالمی مارکیٹ میں حصہ 80 فیصد سے زائد رہا۔
Trending
- پیٹرول سستا، ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا
- سعودی عرب میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دیدی گئی
- 10 روپے کے کرنسی نوٹ تبدیل کرانے کی آخری تاریخ کی افواہیں بےبنیاد ہیں، اسٹیٹ بنک
- یورو نوٹس کی رقم ملنے سے ملکی زر مبادلہ ذخائر بڑھ گئے
- زمبابوے کے بلے باز برینڈن ٹیلر نے سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑ دیا
- سی پیک منصوبہ پاکستانی خواتین کو رکاوٹیں توڑنے اور نئی پیشہ ورانہ بلندیوں تک پہنچنے میں مدد کر رہا ہے
- چین پاکستان مشترکہ تربیتی مرکز پاکستان میں نئی توانائی کی گاڑیوں کے شعبے کے لیے ہنرمند افراد کی تیاری میں کوشاں
- چین کا یمن کے تمام فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ
- امریکی فیڈرل ریزرو نے وفاقی فنڈز کی شرح ہدف کی حد میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کر دیا
- چین سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر لانگ آرم دائرہ اختیار کی مخالفت کرتا ہے، چینی وزارت خارجہ