بیجنگ :چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دورۂ چین نے دونوں ممالک کی روایتی دوستی میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطابق دورے کے دوران چینی صدر شی جن پھنگ اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے چین۔پاکستان ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے، چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے عملی منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے”2.0 اپ گریڈ ورژن” کی تعمیر تیز کرنے، دوطرفہ آزاد تجارتی معاہدے کے اپ گریڈ ورژن کی تیاری اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمہ موسمی تعاون کے مزید ثمرات سامنے لائے جائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو زیادہ فوائد حاصل ہوں اور خطے میں ہم نصیب معاشرے کے قیام کی ایک عملی مثال قائم کی جا سکے۔ اس موقع پر فریقین نے تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت و خوراک، اور انسانی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں متعدد تعاون کی دستاویزات پر بھی دستخط کیے۔یہ دورہ نہ صرف چین۔ پاکستان "ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری” کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ بنا بلکہ دوطرفہ تعلقات کی نئی سمت، نئے ڈھانچے اور نئے وژن کی جامع اپ گریڈیشن بھی ثابت ہوا۔ پاکستان کے بعض حلقوں میں مستقبل کے چین۔پاکستان تعاون سے متعلق جو خدشات اور سوالات پائے جاتے تھے، اس دورے نے ان کے جوابات واضح انداز میں دے دیے۔حقیقت یہ ہے کہ چین۔پاکستان تعلقات کی ترقی کا مطلب تعاون میں کمی نہیں بلکہ روایتی تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے باہمی فوائد، مشترکہ ترقی اور وسیع تر اشتراک کے نئے مرحلے میں داخل ہونا ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کا تعاون زیادہ معیاری، زیادہ گہرا اور زیادہ وسیع دائرے میں داخل ہو رہا ہے۔بلا شبہ، نئے دور میں چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں جذباتی دوستی سے آگے بڑھ کر یہ تعلق اب ایک ادارہ جاتی اور پائیدار ہم نصیب معاشرے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان "آہنی بھائی چارے” کی دوستی عوام کے دلوں میں رچی بسی ہے ۔ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات زیادہ تر سیاسی اعتماد اور جذباتی وابستگی پر مبنی تھے، مگر عالمی صورتحال اور دونوں ممالک کی ترقیاتی ضروریات میں تبدیلی کے ساتھ اب یہ تعلقات زیادہ متوازن، عملی اور طویل المدتی بنیادوں پر استوار ہو رہے ہیں۔ چین اور پاکستان اب صرف سیاسی اتحادی یا سلامتی کے شراکت دار نہیں رہے بلکہ باہمی اعتماد، مساوی مفادات اور مشترکہ ترقی پر مبنی قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار اور ترقیاتی ساتھی بن چکے ہیں۔ اس تبدیلی کا مطلب تعلقات میں کمزوری نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید پختگی کی علامت ہے۔ چین، جنوبی ایشیا اور ہمسایہ ممالک کی مجموعی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے ساتھ دوستی کی بنیادی پالیسی پر قائم ہے، جبکہ یکطرفہ یا محدود نوعیت کے تعاون کے بجائے طویل المدتی، مستحکم اور باہمی فائدے پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دے رہا ہے۔چین اور پاکستان کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی تعاون کے نئے ڈھانچے کی تشکیل کے ساتھ اب تعاون کا دائرہ صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہا بلکہ صنعت، ٹیکنالوجی اور جدید معیشت تک پھیل چکا ہے۔ آزاد تجارتی معاہدے کے اپ گریڈ ورژن کی بدولت پاکستانی زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل اور دیگر برآمدی اشیا کے لیے چینی منڈی تک رسائی مزید آسان ہو رہی ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، جدید زراعت اور اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ نئے ترقیاتی شعبوں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ چین اب صرف صنعتی صلاحیت منتقل نہیں کر رہا بلکہ مکمل پیداواری نظام، تکنیکی معیارات اور ترقیاتی تجربات بھی پاکستان کے ساتھ شیئر کر رہا ہے تاکہ پاکستان مقامی صنعتوں کو فروغ دے سکے، معیاری روزگار پیدا ہو اور تجارتی خسارے، زرمبادلہ کی کمی اور سست اقتصادی نمو جیسے بنیادی مسائل حل کیے جا سکیں۔سلامتی کے شعبے میں بھی دونوں ممالک قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط اور ہم آہنگ بنا رہے ہیں تاکہ تعاون کے منصوبوں کی سلامتی اور علاقائی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم بین الاقوامی نظام کی حمایت کرتے ہیں اور علاقائی تنازعات کے حل کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت مختلف عالمی امور پر دونوں ممالک کا یکساں موقف چین پاکستان دوستی کی روح "ہمسائیگی، دوستی اور مشترکہ ذمہ داری” کو ظاہر کرتا ہے۔پچھتر برسوں پر محیط اس سفر میں چین پاکستان دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ، دراصل وقت کی ضرورت اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کا تقاضا ہے ۔ تعلقات کی نئی سمت مساوی شراکت داری کو مضبوط بنا رہی ہے، نیا ڈھانچہ ہمہ جہتی تعاون کی بنیاد مستحکم کر رہا ہے اور نئی حکمتِ عملی طویل المدتی مشترکہ ترقی کو یقینی بنا رہی ہے۔پاکستان کے بعض حلقوں میں تعلقات کی کمزوری یا تعاون میں عدم توازن سے متعلق خدشات دراصل اس عبوری مرحلے کو مکمل طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔ "چین پاکستان دوستی پہاڑوں سے بھی بلند اور سمندروں سے بھی گہری ہے” یہ حقیقت آج بھی برقرار ہے، اور جب اس دوستی کو حقیقی باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے تو مستقبل کا راستہ مزید وسیع اور روشن ہوتا چلا جائے گا۔ مستقبل میں چین اور پاکستان اعلیٰ سطح کے سیاسی اعتماد، عملی تعاون، سلامتی کے اشتراک اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو بنیاد بنا کر طویل المدتی مشترکہ کامیابی کے ماڈل کو مزید مضبوط بنائیں گے تاکہ نئے دور کے چین۔پاکستان ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کیا جا سکے۔
Trending
- خیبر پختونخوا؛ چیف سیکرٹری نے وزیراعلیٰ سے اختلافات کی تردید کردی
- چین۔پاکستان تعلقات ایک نئی اسٹریٹجک سطح پر پہنچ چکے ہیں، چینی میڈیا
- "تائیوان کی علیحدگی” کا راستہ بند گلی کی جانب لے جاتا ہے، چینی وزارتِ دفاع
- چین، امریکہ محصولات مذاکرات میں پیش رفت
- چین اور یورپ کے تعلقات جیت جیت کے اصول پر قائم ہیں
- چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان قریبی تعلقات ہیں ، چینی وزارت دفاع
- چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں، چینی وزیر خارجہ
- چین-امریکہ دوستی کی کہانیاں عوام لکھتے ہیں، چینی صدر
- چین اور سورینام کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ ہے، چینی صدر
- چین اور آسٹریا کے تعلقات نے مستحکم ترقی کو برقرار رکھا ہے، چینی صدر