News Views Events
Apna Watan

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال؛ صنعتوں کا پہیہ جام ہونے سے معیشت کو بھاری نقصان کا خدشہ

0

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں، سپلائی چین اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے اور صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر خام مال کی ترسیل اور تیار مصنوعات کی ملک بھر میں نقل و حمل کا سلسلہ مزید متاثر ہوا تو اس کے ملکی صنعت اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے صنعتوں کے لیے صورت حال انتہائی مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ صنعتی پیداوار کا پورا نظام خام مال کی بروقت فراہمی اور تیار مصنوعات کی مقررہ وقت پر ترسیل سے منسلک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فیکٹریوں کو مطلوبہ خام مال وقت پر نہیں ملے گا تو پیداواری عمل متاثر ہوگا جبکہ تیار مال کی ترسیل میں تاخیر سے صنعت کاروں کو مزید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، پاکستان کی صنعتیں خصوصاً برآمدی سیکٹر پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کررہا ہے ایسے میں ٹرانسپورٹ کا بحران صنعتوں کے لیے ایک اضافی اور ناقابل برداشت بوجھ ثابت ہوسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر تیار مصنوعات بروقت کسٹمر تک نہ پہنچیں تو بعض اوقات خریدار اضافی کلیمز عائد کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں قیمت کم کرنے یا نقصان کی تلافی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے صدر نے کہا کہ صنعتوں کے لیے خام مال کی سپلائی کا مسلسل جاری رہنا انتہائی ضروری ہے، اگر خام مال کی ترسیل رکتی ہے تو پوری سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور فیکٹریوں میں پیداواری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر خام مال کی عدم دستیابی یا ٹرانسپورٹ کی بندش کے باعث برآمدی آرڈرز بروقت تیار نہیں ہوسکیں تو صنعتوں کو نہ صرف تاخیر کا سامنا ہوگا بلکہ بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ کاروباری تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عبدالرحمان فدا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے قابل عمل راستہ نکالا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے نمائندوں کو اس معاملے کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے اور صورت حال کو اس حد تک نہیں جانے دینا چاہیے کہ ملک کی صنعت اور سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہو، اگر معاملہ طویل ہوا اور ٹرانسپورٹ کا نظام بدستور متاثر رہا تو اس کا نقصان صرف صنعت کاروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملکی معیشت، برآمدات، روزگار اور مجموعی کاروباری سرگرمیوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

پی این پی

Leave A Reply

Your email address will not be published.