ایک امریکی کمپنی کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی امریکی اے آئی کمپنیاں اگلے چند سالوں میں تقریباً 60 ڈیٹا سینٹرز بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں، جن کے لیے 2030 کی دہائی کے اوائل تک 97 گیگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اپنی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے، زیادہ تر امریکی AI کمپنیاں “زیادہ آلودگی پھیلانے والے اختیارات” کی طرف جھک رہی ہیں۔
محتاط اندازے بھی یہ کہتے ہیں کہ ، ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ پاور پلانٹس سالانہ 200 ملین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے، جو کہ 46 ملین سے زیادہ پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے سالانہ کاربن اخراج کے برابر ہے۔
Trending
- ’میسجز کا جواب ہی نہیں دیتی‘، امیتابھ بچن کا پریتی زنٹا سے شکوہ
- چینی صدر کا کولمبیا میں شدید زلزلے پر افسوس کا اظہار
- چین کے آفات سے نمٹنے کے تجربات قابلِ تقلید ہیں، چینی میڈیا
- حلقہ تین پونچھ، کھائی گلہ میں سیاسی تبدیلی کی دستک
- فٹبال میچ کے دوران گیند سڑک پر جانے سے حادثہ، گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں
- ’تم ہیرو جیسے نہیں دکھتے‘، گووندا نے سلمان خان کو آخر ایسا کیوں کہا؟
- پاکستان اور جاپان کے درمیان 2.2 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط
- امریکی اے آئی کمپنیوں کی نجی بجلی گھروں کی تعمیر سے کاربن کے اخراج میں مزید اضافے کا خدشہ
- ماحولیاتی تحفظ کے لیے “پندرہویں پانچ سالہ منصوبے” کا واضح لائحہ عمل
- امریکہ جلد از جلد کیوبا پر پابندیاں ختم کرے ،چین کی وزارت خارجہ
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔