ایک امریکی کمپنی کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی امریکی اے آئی کمپنیاں اگلے چند سالوں میں تقریباً 60 ڈیٹا سینٹرز بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں، جن کے لیے 2030 کی دہائی کے اوائل تک 97 گیگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کی ضرورت ہوگی۔ یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اپنی بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے، زیادہ تر امریکی AI کمپنیاں “زیادہ آلودگی پھیلانے والے اختیارات” کی طرف جھک رہی ہیں۔
محتاط اندازے بھی یہ کہتے ہیں کہ ، ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ پاور پلانٹس سالانہ 200 ملین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کریں گے، جو کہ 46 ملین سے زیادہ پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے سالانہ کاربن اخراج کے برابر ہے۔
Trending
- چین اور امریکہ باہمی تعلقات کے لیے درست راستہ تلاش کر سکتے ہیں،چینی صدر
- چینی صدر سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ہوائی اڈے پر ٹرمپ نے استقبال کیا
- چینی صدر سرکاری دورے پر امریکہ پہنچ گئے، ہوائی اڈے پر ٹرمپ نے غیر معمولی استقبال کیا
- ایشین گیمز، پاکستان مکسڈ ڈبلز اسکواش ایونٹ کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا
- شاعری میں تصویر والی چینی رومانویت، چینی گلوگاروں کی جانب سے گیت پہاڑی رہائش میں موسم خزاں کی شام پیش کیا گیا
- روبوٹ کے ہمراہ مڈ آٹم فیسٹیول میں چاند کا دورہ
- چینی اور امریکی صدور کے درمیان بات چیت نے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں مثبت کردار ادا کیا، عالمی ماہرین
- ایشین گیمز: چین کیخلاف میچ میں پاکستان ہاکی ٹیم اہم کھلاڑی سے محروم
- آسان ٹیکس اسکیم پر دکانداروں اور وکلا کے ٹیکنیکل اعتراضات دور کیے جائیں، بلال کیانی
- ایشین گیمز میں میڈل حاصل کرنے کیلیے پرامید ہیں، صاحبزادہ فرحان
اپناوطن ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پاکستان بھر میں اور اوورسیز پاکستانیوں کے نیوزپلیٹ فارم کے بانی مدیر اعلیٰ نعیم کا شمار کہنہ مشق اور منجھے ہوئے مایہ ناز صحافیوں میں ہوتا ہے۔