حال ہی میں جاپان نے 2026 کا ڈیفنس وائٹ پیپر جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ میزائل دفاعی نظام کے ذریعے مخالف کے خلاف مؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ جاپان کی کیوڈو نیوز سمیت بعض ذرائع ابلاغ نے اس کے لیے زیادہ واضح اور عام فہم اصطلاح “مخالف اڈوں پر حملے کی صلاحیت” استعمال کی ہے۔
نئے ڈیفنس وائٹ پیپر میں واضح کیا گیا ہے کہ جوابی کارروائی کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے جاپان جلد از جلد غیر ملکی ساختہ دفاعی حدود سے باہر مار کرنے والے میزائل حاصل کرے گا، جبکہ ملکی ساختہ ایسے میزائلوں کی تیاری اور تعیناتی بھی تیز کی جائے گی۔
نئے ڈیفنس وائٹ پیپر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2026 سے ہائپرسونک میزائلوں کی ابتدائی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کی جائے گی۔ جاپان جس ہائپرسونک میزائل کی تیاری کر رہا ہے، وہ سپر سونک کمبسشن ریم جیٹ انجن سے چلنے والا ہائپرسونک کروز میزائل ہے۔ جاپان “تحقیق و ترقی کے ساتھ ابتدائی پیداوار” کے طریقہ کار کے تحت اس کی تیاری کر رہا ہے تاکہ سروس میں لانے کے عمل کو مختصر کیا جا سکے۔ تاہم 2025 کے اختتام تک صرف سپر سونک کمبسشن ریم جیٹ انجن کے زمینی تجربات اور متعلقہ بنیادی ٹیکنالوجی کی تصدیق مکمل ہوئی تھی، جبکہ مکمل میزائل کے حقیقی پرواز کے تجربات ابھی شروع نہیں کیے گئے تھے۔ اسی دوران جاپان نے امریکی ساختہ ٹام ہاک میزائل اور ناروے ساختہ جوائنٹ اسٹرائیک میزائل کی خریداری بھی تیز کر دی ہے۔
دفاعی حدود سے باہر مار کرنے والے میزائلوں کے لیے درکار اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے جاپان نے مارچ 2026 سے سیٹلائٹ نظام کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ منصوبے کے تحت چھوٹے سیٹلائٹس مرحلہ وار خلا میں بھیجے جائیں گے اور مارچ 2028 سے پہلے اس سیٹلائٹ نظام کو باضابطہ طور پر فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔