روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جاپان کی جانب سے صدر ولادیمیر پیوٹن کے جزیرہ اتوروپ کے دورے پر احتجاج کے حوالے سے کہا ہے کہ جاپان بین الاقوامی قانون کو اپنے اور اپنے اتحادی امریکہ کے مفادات کے مطابق دوبارہ لکھنے، تاریخی ذمہ داریوں سے بچنے اور اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا ہے۔
لاوروف نے کہا کہ موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپان “تین غیر جوہری اصولوں ” سے منحرف ہونا چاہتا ہے، اور جاپان کی سیلف ڈیفنس فورسز اپنے موجودہ آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیرون ملک کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ ان تمام اقدامات سے انتہائی تشویش پیدا ہوتی ہے۔
لاوروف نے متنبہ کیا کہ “اگر جاپان روس پر تنقید کر کے دنیا کی توجہ اپنے جارحانہ عسکریت پسندانہ اقدامات سے ہٹانا چاہتا ہے، تو روس اسے مشورہ دیتا ہے کہ وہ پہلے امور سنبھالے اور جاپان میں موجود ان مسائل کو حل کرے جن کے حل کی اس وقت اشد ضرورت ہے۔”
لاوروف کے مطابق، روسی وزارت خارجہ نے جاپان کے احتجاج کے جواب میں جاپان کے سفیر کو طلب کیا تھا، لیکن جاپان کے سفارت خانے نے “سفیر کے ماسکو میں موجود نہ ہونے” یا “بیماری” کا بہانہ بنا کر 14 یا 17 اگست کو وزارت خارجہ آنے سے انکار کیا ۔