بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے سی آئی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے چین کے خلاف جاسوسی کی سرگرمیوں کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے سرِ عام چینی کمپنیوں کو جاسوسی کا جائز ہدف قرار دیا ہے، جس سے امریکی خفیہ اداروں کی پس پردہ راز چوری کرنے کی کوششوں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے، جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات منصفانہ مسابقت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، قومی سلامتی کے تصور کابے جا استعمال کر رہے ہیں، مسابقت اور سلامتی کے درمیان حدوں کو الجھا رہے ہیں اور حتیٰ کہ معاشی مسابقت کو نام نہاد “خطرہ” قرار دے رہے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر زیرو سم گیمز پر مبنی سرد جنگ کی ذہنیت کا مظہر ہے۔چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ چین امریکا پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر چین کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں بند کرے اور چین کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کو نقصان پہنچانے والے تمام اقدامات روکے۔ چین انسدادِ جاسوسی کے قانون سمیت متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق ضروری اقدامات کرے گا، غیر قانونی اور مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا اور چینی کاروباری اداروں کے جائز حقوق و مفادات کا مضبوطی سے تحفظ کرے گا۔
Trending
- صائم ایوب کو سی پی ایل سے بلا کر کھلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے، ناصر حسین
- برکس تعاون میکانزم کو مسلسل فروغ مل رہا ہے، چینی صدر
- ’وہ مجھے بیوی نہیں، کچھ اور سمجھتے تھے‘، ایلون مسک کی سابقہ اہلیہ کے چونکا دینے والے انکشافات
- مٹی کا تیل 17روپے 35 پیسے فی لیٹر مہنگا
- چین کی بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی تعاون مضبوط بنانے کی اپیل
- مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے حوالے سے چین کا کردار قابل تحسین ہے ، سابق وزیر اعظم اردن
- 26ویں چائنا انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ میں چین میں سرمایہ کاری کے بڑھتے مواقع نمایاں
- امریکا فوری طور پر چین کے خلاف جاسوسی سرگرمیاں بند کرے، چینی وزارت تجارت
- چینی صدر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے
- چین 2027 میں برکس کی صدارت سنبھالے گا