آسان ٹیکس اسکیم: ایف بی آر اور تاجر نمائندوں کی جانب سے دکانداروں کو رجسٹرد کرنے پر اتفاق
وفاقی حکومت اور تاجر تنظیموں کے رہنماؤں کے درمیان فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے افسران اور تاجر نمائندوں کی جانب سے مشترکہ طور پر چاروں صوبوں میں آسان ٹیکس اسکیم کے تحت بازاروں میں جا کر دکان داروں کو رجسٹر کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے تحت رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کی مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق وزیر مملکت خزانہ اور ریلوے بلال اظہر کیانی کی زیرصدارت آسان ٹیکس اسکیم کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں تاجر تنظیموں کے قائدین اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال، ایف بی آر کے اعلیٰ حکام، چیف کمشنرز، آر ٹی او اسلام آباد اور راولپنڈی نے شرکت کی اور ملک بھر کے آر ٹی اوز اور سی ٹی اوز نے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن شرکت کی اجلاس میں آسان ٹیکس اسکیم کے حوالے سے آر ٹی اوز اور سی ٹی اوز کی اب تک کی کارکردگی اور اسکیم پر عمل درآمد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تاجر نمائندے اور ایف بی آر افسران اپنے متعلقہ علاقوں کے بازاروں میں رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنے کی مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے اور ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس دفاتر کے افسران آئندہ دنوں میں تاجروں کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں پہلے سے طے شدہ اوقات کے مطابق بازاروں کا دورہ کریں گے۔
اسی طرح تاجروں کی جانب سے آسان ٹیکس اسکیم پر اب تک ملنے والے فیڈ بیک کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ہفتے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی صدارت میں آسان ٹیکس اسکیم کے حوالے سے دوبارہ اجلاس منعقد ہوگا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سرپرستی میں حکومت نے تاجروں کے مطالبے پر آسان ٹیکس اسکیم جاری کی اور وعدے کو پورا کرتے ہوئے اس پر مؤثر عمل درآمد کا آغاز کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج آسان ٹیکس اسکیم کے تحت اسلام آباد میں پہلی پلیٹ لگائی گئی ہے، جس سے حکومت نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، جبکہ کل ملک بھر میں آسان ٹیکس اسکیم کا حصہ بننے والے دکان داروں کی دکانوں پر پلیٹیں لگائی جائیں گی۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ اسکیم ٹیکس نیٹ بڑھانے اور تاجروں کی زندگی میں سہولت لانے کا باعث بنے گی، آسان ٹیکس اسکیم پر پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور اس تاریخی اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
پی این پی