ساٹھویں میونخ سکیورٹی کانفرنس کا آغاز گزشتہ روز جرمنی کے جنوبی شہر میونخ میں ہوا۔ تین روزہ اجلاس میں تقریباً 50 قومی اور حکومتی رہنما اور مختلف ممالک کے سو سے زائد وزراء شرکت کر رہے ہیں ۔ اس سال کی کانفرنس میں یوکرین کے بحران، فلسطین اسرائیل کی صورتحال اور ہارن آف افریقہ میں تنازعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیٹو کا استحکام اور یورپی دفاع کا مستقبل بھی اہم موضوعات ہیں۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے افتتاحی تقریب میں تقریر کے دوران عالمی امن کو برقرار رکھنے اور جدید عالمی نظام کے قیام پر زور دیا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اس سال میونخ سلامتی کونسل کا موضوع "مذاکرات کے ذریعے امن کا عمل” ہے، لیکن روسی اور ایرانی نمائندوں کی مسلسل تین سال تک غیر موجودگی نے بیرونی دنیا کے لئے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا آیا متعلقہ فریقوں کی عدم موجودگی سے حقیقی معنوں میں امن کا فروغ ممکن ہے ؟
Trending
- وسطی چین کا خطہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کر نے میں مصروف عمل
- چینی عوام انتہائی دانشمند ہیں اورچین کی سماجی بنیاد مضبوط ہے، نوبل انعام یافتہ پروفیسر ہیک مین
- غیر ملکی مداخلت کی تمام کوششوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائےگا، چینی وزارت دفاع
- چینی صدر کے خصوصی ایلچی کی جمہوریہ کانگو کی صدارتی تقریب حلف برداری میں شرکت
- چینی نائب وزیر اعظم کی ترکمانستان میں گیس فیلڈ منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت
- ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو تجسس میں ڈال دیا
- طلاق کے بعد نکاح نامے میں درج رقم اور زیورات سے متعلق عدالت کا بڑا فیصلہ
- یہ میچ فکس تھا؟ آئی سی سی نے بڑی انکوائری شروع کردی
- لاہور سے اغوا 19 سالہ لڑکی کراچی سے بازیاب، ملزم گرفتار
- کاروباری ہفتے میں مثبت رجحان رہا، 6747 پوائنٹس کا اضافہ