بیجنگ(نیوزڈیسک)چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سنکیانگ میں نام نہاد انسانی حقوق کے مسئلے کی آڑ میں بین الاقوامی صنعتی چین میں امریکی مداخلت کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیا۔
ترجمان نے کہا کہ چین نے بارہا نشاندہی کی ہے کہ سنکیانگ میں جبری مشقت کا نام نہاد وجود مکمل جھوٹ ہے اور امریکہ نے سنکیانگ میں جبری بے روزگاری پیدا کرنے کی کوشش میں سنکیانگ سے متعلق منفی قوانین نافذ کرتے ہوئے سنکیانگ میں غیر موجود جبری مشقت کو بطور بہانہ استعمال کیا ہے، سنکیانگ کے لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، بین الاقوامی تجارتی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور بین الاقوامی صنعتی چین میں شدید خلل ڈالا ہے۔ امریکہ فوری طور پر چین کو بدنام کرنا بند کرے، انسانی حقوق کی آڑ میں چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے اور معاشی اور تجارتی معاملات پر سیاست اور انہیں بطور آلہ استعمال کرنا بند کرے۔
Trending
- نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
- جیسوال اور ویبھاؤ کو معمولی سزا دیے جانے پر سنجے منجریکر برہم
- ملک میں سونے کی قیمتیں گراوٹ کا شکار
- نیپال میں بپھرا ہوا سیلاب سیکڑوں سیاحوں کو بہا لے گیا، 300 سے زائد ہلاکتیں، سیکڑوں لاپتا
- شمالی آئرلینڈ فٹبال ایسوسی ایشن کا انفینٹینو کی مخالفت کا اعلان
- کتاب شی جن پھنگ کی ثقافت کے بارے میں منتخب تحریریں کی جلد اول اور دوم شائع
- چینی وزیراعظم ہنگامی امدادی کارروائیوں کی رہنمائی کے لیے شی زانگ پہنچ گئے
- چین، 13ویں بیجنگ شیانگ شان فورم کی میزبانی کے لیے تیار
- چین نے امریکی حکومت کی جانب سے چینی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کی مخالفت کر دی
- قومی ویمن کرکٹر ایمن انور کا انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان