ہیٹی میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین کے سربراہ فلپ برانچٹ نے کہا کہ ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کے بیشتر علاقے اور مختلف مقامات کی طرف جانے والی اہم شاہراہیں اس وقت مسلح افراد کے کنٹرول میں ہیں اور بڑی تعداد میں لوگ شہر چھوڑ رہے ہیں۔ پورٹ او پرنس کا ہوائی اڈہ اب بھی بند ہے اور فی الحال ہیٹی میں کوئی انسانی امداد داخل نہیں ہو رہی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقامی وقت کے مطابق آٹھ تاریخ کو پورٹ او پرنس میں ایوان صدر کے قریب بڑے پیمانے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ 9 تاریخ کو ہیٹی کی پولیس نے کہا کہ انہوں نے ایوان صدر پر گینگ فورسز کے حملے کو پسپا کر دیا ہے اور حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا مسلح رہنما ہلاک کر دیا گیا ہے۔ رواں سال 29 فروری سے ہیٹی کے دیگر مسلح گروہوں نے عبوری حکومت کے وزیر اعظم ایریل ہنری کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے پورٹ او پرنس کے پولیس اسٹیشن، پولیس کالج اور دیگر تنصیبات پر حملے کیے ۔
Trending
- فیفا ورلڈکپ: امریکا پہنچنے پر سینیگال فٹبال ٹیم کی سخت چیکنگ کی ویڈیو وائرل
- سونا مہنگا ہوگیا؛ 3 دن وقفے کے بعد قیمتیں آج بڑھ گئیں
- ورلڈکپ کے آغاز سے قبل فیفا اور انفینٹینو کیخلاف قانونی کارروائی کا آغاز
- وفاقی بجٹ میں تاخیر وفاق و صوبوں میں ٹیکس آمدنی کی تقسیم پر تنازع کی وجہ سے ہے، انکشاف
- پاک ایران سرحدی تجارت بند ہونے اور ایل پی جی بحران کی تردید
- فیفا ورلڈکپ بھی سیاست سے داغدار، ایران کیلیے مختص ٹکٹ واپس لے لیے گئے
- وفاقی بجٹ: پی او ایس سسٹم نہ لگانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے سخت سزائیں متعارف کروانے کا فیصلہ
- بجٹ منظوری کی راہ ہموار، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر وفاق اور صوبے رضامند ہو گئے
- شان مسعود کی جگہ نیا ٹیسٹ کپتان کون ہوگا؟
- قومی بچت اسکیموں اور سروا اسلامک اسکیموں کے لیے شرح منافع میں اضافہ