امریکہ کی "اظہارِ رائے کی نام نہاد آزادی کی سچائی "پر رپورٹ جاری کردی گئی۔
رپورٹ میں بڑی تعداد میں ایسے حقائق پیش کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے "اظہارِ رائے کی آزادی "درحقیقت ہے کیا،امریکہ اصل میں کرتا کیا ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے آزادیِ اظہار کی دھجیاں اڑا رہا ہے، دوہرے معیارات پر عمل پیرا ہے اور سیاسی ہیرا پھیری نیز سماجی ناانصافی کو چھپانے کے لیے ،اظہارِ رائے کی نام نہاد آزادیِ کا استعمال کرتا آیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکہ اپنی بالادستی سے بین الاقوامی تعلقات میں جمہوری عمل کو روکتا ہے اور افواہوں سے بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں دوسرے ممالک پر "غلط معلومات” پھیلانے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا، لیکن درحقیقت امریکہ افواہوں کا منبع اور دنیا بھر میں "نظریاتی جنگ” کی کمانڈ پوسٹ ہے۔
Trending
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- وزیراعظم شہباز شریف جلد سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے
- پاکستانی صلاحیتوں سے متعلق پاکستان کنفرنس 2026 کا انعقاد
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- ایران اور امریکا کے اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، وزیراعظم
- امریکہ اور ایران کے وفود کی اسلام آباد واپسی کا امکان، امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ
- پیکا قانون کی کہانی؛ صحافیوں اور شہریوں کے لیے کتنا خطرناک بن چکا ہے؟
- آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، : چین
- چین اور اسپین کے تعلقات میں مسلسل اور مستحکم ترقی ہوئی ہے، چینی صدر
- متحدہ عرب امارات چین کا جامع اسٹریٹجک شراکت داری ہے، چینی صدر