امریکہ کی “اظہارِ رائے کی نام نہاد آزادی کی سچائی “پر رپورٹ جاری کردی گئی۔
رپورٹ میں بڑی تعداد میں ایسے حقائق پیش کیے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے “اظہارِ رائے کی آزادی “درحقیقت ہے کیا،امریکہ اصل میں کرتا کیا ہے اور اس کے اصل مقاصد کیا ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ طویل عرصے سے آزادیِ اظہار کی دھجیاں اڑا رہا ہے، دوہرے معیارات پر عمل پیرا ہے اور سیاسی ہیرا پھیری نیز سماجی ناانصافی کو چھپانے کے لیے ،اظہارِ رائے کی نام نہاد آزادیِ کا استعمال کرتا آیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکہ اپنی بالادستی سے بین الاقوامی تعلقات میں جمہوری عمل کو روکتا ہے اور افواہوں سے بین الاقوامی رائے عامہ پر اثر انداز ہوتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں دوسرے ممالک پر “غلط معلومات” پھیلانے کا بے بنیاد الزام لگایا گیا، لیکن درحقیقت امریکہ افواہوں کا منبع اور دنیا بھر میں “نظریاتی جنگ” کی کمانڈ پوسٹ ہے۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ