جنیوا (نیوزڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا 55 واں اجلاس شروع ہوا۔
چائنا سوسائٹی فار ہیومن رائٹس ریسرچ کے متعدد ماہرین اور اسکالرز نے اس اجلاس میں خصوصی افراد کے لیے خدمات اور رازداری کے حقوق کے تحفظ جیسے معاملات پر چین کے منصوبے اور عملی تجربات پیش کیے۔
گوانگ ژو یونیورسٹی میں ادارہ برائے انسانی حقوق کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور چائنا ڈس ایبلٹی ریسرچ ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر ژو لولو نے کہا کہ خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے چین نے متعدد قوانین، ضوابط اور پالیسیاں مرتب کی ہیں اور مربوط تعلیم ،روزگار،اور رکاوٹ سے پاک ماحول کی تعمیرپر عمل درآمد کیا گیا ہے۔
نارتھ ویسٹ یونیورسٹی آف پولیٹیکل سائنس اینڈ لاء کے پروفیسر گو میاؤ نے کہا کہ ایک طرف تو چین عوامی خدمات کے اشتہارات اور دیگر صورتوں میں صارفین کی ذاتی رازداری اور تحفظ کے بارے میں آگاہی کو بہتر بناتا ہے، دوسری طرف، ذاتی رازداری کے ڈیٹا کے تحفظ کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کمپنیز کی اہم ذمہ داری کو بھی لاگو کیا جائے گا۔
Trending
- پہلے نصف سال میں چین میں سماجی لاجسٹکس کا مجموعی حجم 181 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا
- چین کا ترکیہ سے ڈبلیو ٹی او کے پینل فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ
- چین میں رواں سال 4 لاکھ 53 ہزار ایجادی پیٹنٹس کی منظوری
- سی پیک کے تحت پاکستانی آم کی چینی منڈی میں فروخت میں مسلسل اضافہ
- زائد پیداواری صلاحیت”: صرف چین کو ناپنے کا ایک سیاسی پیمانہ
- چین اور پیرو کے تعلقات لاطینی امریکی ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں، چینی عہدیدار
- چین اور ساؤ ٹومے و پرنسیپے کے تعلقات نے مثبت رفتار سے ترقی کی ہے، چینی صدر
- چین دنیا بھر کے امن پسند عوام کے ساتھ مل کر تاریخی انصاف کا دفاع جاری رکھے گا ، چینی وزارتِ خارجہ
- گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو نے عالمی ترقی کے فروغ کے لیے چینی دانش کو اجاگر کیا، چینی وزیر خارجہ
- چین کا نیو نیو ٹریو روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور اختراعی ادویات ، دنیا بھر میں مقبول ہو رہا ہے، رپورٹ